این او سی نہ ملنے کے باعث تیل اور گیس کی تلاش تاخیر کا شکار

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2019

ای میل

ڈپارٹمنٹ طویل عرصے سے 30 سے40 بلاکس میں ذخائر کی تلاش کے لیے کلیئرنس کا انتظار کررہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
ڈپارٹمنٹ طویل عرصے سے 30 سے40 بلاکس میں ذخائر کی تلاش کے لیے کلیئرنس کا انتظار کررہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے ایک اجلاس میں ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا ہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے تیل اور گیس کی تلاش کے 24بلاکس کی نیلامی 6 ماہ کے لیے موخر ہوگئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے سیکریٹری پیٹرولیم اسد حیاالدین نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے 6 ماہ قبل وزارت دفاع سے 24 بلاکس کے لیے تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کرنے کی درخواست کی تھی لیکن کلیئرنس اب تک نہ مل سکی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس جون میں اس وقت کے سیکریٹری پیٹرولیم سکندر سلطان نے کمیٹی سے شکایت کی تھی کہ ڈپارٹمنٹ طویل عرصے سے 30 سے 40 بلاکس میں ذخائر کی تلاش کے لیے کلیئرنس کا انتظار کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا امکان

انہوں نے کمیٹی اجلاس میں کہا تھا کہ ہم نے بھرپور کوشش کی لیکن وزارت دفاع سے انہیں کلیئرنس نہیں مل رہی اور یہ ملک کا نقصان ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے پیٹرولیم ڈویژن ذخائر کی تلاش کے لیے کوئی اہم بلاک نہیں پیش کرسکا۔

اس ضمن میں ایک سینیر عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے این او سی کے اجرا کے لیے متعین مدت کے طریقہ کار کی تجویز دی تھی تاکہ ذخائر کی تلاش کے لیے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے وقتاً فوقتاً نئے بلاکس آفر کیے جاتے رہیں لیکن اس کا بھی فائدہ نہیں ہوا۔

کمیٹی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری سطح پر چلنے والی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی سندھ میں شیل گیس کی تلاش کے لیے کنویں کھودنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت

اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم کنسیشن عمران احمد نے بتایا کہ 19-2018 میں ملک میں تیل اور گیس کی پیداوار بالترتیب 89 ہزار 30 بیرل روزانہ اور 3 ہزار 935 ملین کیوبک فٹ روزانہ تھی۔

ملک میں توانائی کا مجموعہ 34 فیصد قدرتی گیس، 31 فیصد تیل، 13 فیصد کوئلے، 9 فیصد مائع قدرتی گیس اور ایک فیصد مائع پیٹرولیم گیس پر مشتمل ہے جبکہ دیگر ان کے علاوہ ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں شیل گیس کے 95 ٹریلین کیوبک فٹ یعنی 14 ارب بیرل کے ذخائر کا اندازہ ہے، آئندہ ماہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) شیل گیس کی تلاش شروع کرے گی۔

حکام نے کہا کہ ملک میں پہلی شیل گیس پالیسی بنانے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ کُنڑ پیساکھی میں آزمائشی بنیاد پرشیل گیس کی تلاش شروع کریں گے، شیل گیس کے ذخائر کے لیے یہ پائلٹ اور مہنگا پراجیکٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت

کمیٹی اراکین کو ڈی جی پیٹرولیم کنسیشن عمران احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تیل و گیس کی اب تک 394 دریافتیں ہوئیں، ان میں 309 دریافتیں گیس اور 85 دریافتیں تیل کی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دریافتوں میں کامیابی کی شرح 34 فیصد رہی جبکہ فعال دریافتوں کے لائنس کی تعداد 133 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انرجی مکس 75 فیصد تیل و گیس پر مشتمل ہے، انرجی مکس میں گیس کا حصہ 34 فیصد، تیل 31 فیصد اور کوئلہ 13 فیصد ہے جبکہ یومیہ تیل کی پیداوار 89 ہزار بیرل ہے جس میں او جی ڈی سی ایل کا حصہ 45 فیصد ہے۔

واضح رہے کہ شیل گیس قدرتی گیس کی ایک قسم ہے جو زیر زمین باریک ریت کے ذروں اور مٹی سے بننے والی تہہ دار چٹانوں سے حاصل کی جاتی ہے جسے مَڈ اسٹون (Mudstone) کہا جاتا ہے۔

بلیک شیل میں پائے جانے والے نامیاتی اجزا کو توڑ کر گیس اور تیل حاصل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے قریب سمندر سے تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی نے وزیر پیٹرولیم عمر ایوب کی عدم حاضری پر احتجاج کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب سے عمر ایوب وزیر پیٹرولیم بنے ایک بار بھی اجلاس میں نہیں آئے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان سے بھی سینیٹرز اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں، کیا کمیٹی کی اتنی اوقات نہیں کہ وفاقی وزیر اجلاس میں شرکت کریں؟

چئیرمین کمیٹی نے عمر ایوب کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کو خط لکھ کر کمیٹی کے تحفظات سے آگاہ کروں گا۔