پُرتعیش زندگی کے مالک فلم ساز کی بیٹی ڈھابہ کیوں چلا رہی ہے؟

29 نومبر 2019

ای میل

میں اسے دکھی داستان نہیں بلکہ ہار نہ ماننے کی حوصلہ افزا کہانی سمجھتا ہوں۔ درد تو ویسے بھی گلی گلی ہمیں مختلف شکلوں میں جابجا نظر آتے ہی ہیں، مگر حوصلہ کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

اب تو اس افراتفری سے بھرپور زمانے میں لوگ اکثر دوسروں کے مسائل اور تکالیف سُن سُن کر اُکتا جاتے ہیں، اور ڈرتے ڈرتے بس اس جملے کا انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ مسائل سنانے والے کب کہیں گے کہ ان کی مالی مدد کی جائے۔ لیکن ذیل میں جو کہانی میں آپ کو بتانے والا ہوں اس میں مسائل تو ہیں لیکن آخر میں آپ سے مدد کی اپیل نہیں کی جاتی۔

ہاں مگر یہ ضرور ممکن ہے کہ کہانی کے انجام پر آپ کے دل میں ایک میٹھی سی چُبھن کا احساس پیدا ہو۔ زندگی کی 2 مختلف انتہائیں دیکھنے والی بنٹی کی کہانی بھی ایسی ہی ہے!

50 برس سے زائدالعمر افراد نے ہمارے ملک میں سنیما کا عروج ضرور دیکھا ہوگا، ایسا عروج جب لوگ ٹکٹ گھروں کی کھڑکیوں کے سامنے قطار اور ہجوم لگائے کھڑے ہوتے اور فلم شو کے ایک ٹکٹ کے لیے کچھ بھی کر گزر جانے کے لیے تیار ہوتے۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان وقتوں میں فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں نے پاکستانی فلم بینوں کے لیے شاہکار فلمیں تخلیق کیں۔

پاکستان کو کامیاب فلمیں دینے والوں میں ایک نام ایم اے رشید کا بھی ہے۔ ایم اے رشید نے پاٹے خان کے نام سے پہلی فلم بنا کر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ اپنے دور کے کامیاب ہدایتکار، فلمساز اور مکالمہ نگار تھے اور عالیشان گھر، بڑی گاڑیاں اور ایک پُرتعیش زندگی کے وہ مالک تھے۔

ایم اے راشد شوبز کی شخصیات کے ہمراہ

ایم اے رشید صاحب نے 2 شادیاں کی تھیں اور ان کے ہاں 14 بچوں کی پیدائش ہوئی۔ ان میں سے ایک رافعہ راشد ہیں جنہیں ایم اے رشید صاحب نے بڑے لاڈ پیار سے نوازا۔ لاڈوں پلی وہی رافعہ راشد آج اپنی بیٹی اور نواسے کے ساتھ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترامڑی میں واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی ہیں۔

جو کچھ بھی تھا سب ختم ہوگیا، لیکن زندگی کا چرخہ چلانا ہی پڑتا ہے چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔ جیون ساتھی اور داماد نے چھوڑ دیا، ایک بیٹی ساتھ رہتی ہے جو نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے۔

رافعہ اپنے والد اہم اے رشید کے ہمراہ
رافعہ اپنے والد اہم اے رشید کے ہمراہ

جہاں اس خاتون نے زندگی میں بہت کچھ کھو دیا وہیں اپنے اندر حوصلے اور عزم کو پایا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے ایک چھوٹی سی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا۔

55 سالہ رافعہ رشید عرف بنٹی آنٹی اپنی زندگی میں خوشحالی کے دن گزارنے کے بعد اب جب روزمرہ کے اخراجات اور اپنی بیٹی کے علاج پر ہونے والے خرچے کو پورا کرنے کے لیے پکوان کی دکان چلارہی ہیں، تو بھی ان کے چہرے پر کسی قسم کا رنج یا صدمے کے آثار نظر نہیں آتے، وہ کسی کو یہ بھی نہیں بتاتیں کہ کم عمری میں اپنے والد کی اتنی زیادہ چہیتی بیٹی تھیں کہ دیگر بہن بھائی بھی ان سے حسد کیا کرتے تھے۔

رافعہ راشد اس وقت اسلام آباد میں فوڈ کارنر چلاتی ہیں
رافعہ راشد اس وقت اسلام آباد میں فوڈ کارنر چلاتی ہیں

انہوں نے اپنی زندگی کے 5 برس لندن میں بھی گزارے، انہیں اپنے والد کے ساتھ فلموں کی شوٹنگ کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کا موقع بھی ملا۔ ’پاٹے خان‘، ’تم سلامت رہو‘، ’راستے کا پتھر‘، ’ملن صاحب جی‘ سمیت بیشتر کامیاب فلمیں دینے والے ایم اے رشید یکم جون 2011ء کو لندن میں وفات پائی۔ بس پھر والد کے انتقال کے بعد خوشحالی نے بھی ان کی زندگی کو خیرباد کہہ دیا۔

رافعہ رشید کہتی ہیں کہ ’میرے والد کو فلم قاتل کی تلاش پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، انہوں نے 47 سال پاکستان کی فلم انڈسٹری کی خدمت کی‘۔

رافعہ راشد نے اپنی زندگی کے 5 برس لندن میں بھی گزارے
رافعہ راشد نے اپنی زندگی کے 5 برس لندن میں بھی گزارے

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میرے شوہر اب میرے ساتھ نہیں ہیں، ایک بیٹی ہے، جو بائی پولر ڈس آرڈر کی مریضہ ہے۔ والد زندہ تھے تو لندن سے ماہانہ 50 ہزار روپے خرچہ بھیجا کرتے تھے، سسرال میں نوکر چاکر بھی تھے، بیٹی پیدا ہوئی اور جب اسکول جانے لگی تو امتحانات میں اول نمبروں کے ساتھ پاس ہوا کرتی تھی، لیکن آگے چل کر اسے بائی پولر ڈس آرڈر کا مرض لاحق ہوگیا۔ جب بیٹی کی شادی کروائی تب داماد اور ان کے گھر والوں کو بتادیا تھا کہ اسے یہ مرض لاحق ہے۔ ابتدائی دنوں میں ان کا رویہ ایسا تھا کہ ہمیں لگا کہ وہ بڑے ہمدرد اور انسان دوست لوگ ہیں۔ ان دنوں میرے پاس پیسے بھی تھے، 2 گھر بھی لاہور میں تھے، داماد مجھ سے پیسے لے جاتا، کبھی کہتا کہ فلاں کاروبار میں رقم انویسٹ کرتا ہوں، کبھی کوئی اور بہانا ہوتا، لیکن کبھی بھی اس نے مجھ سے لی ہوئی رقم نہیں لوٹائی۔ میرے والد نے مجھے جہیر میں 40 تولہ سونا بھی دیا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ لاہور کے 2 گھر، سونا اور بچائی ہوئی رقم سب بیٹی کی بیماری اور داماد کے اخراجات کی نذر ہوگئے۔ پیسے ختم ہوئے تو داماد نے بھی آنا جانا چھوڑ دیا اور شوہر تو پہلے ہی چھوڑ چکا تھا‘۔

بنٹی آنٹی گزرتے وقتوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’قتیل شفائی جیسے لوگ ہمارے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے۔ ہماری پرورش ایسی ہی شخصیات کے زیرِ سائے ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی ہمارے پڑوس میں رہتے تھے۔ انکل محمد علی، زیبا آنٹی، ندیم انکل سمیت بہت سارے فلمی ستارے ہمارے گھر آیا کرتے تھے‘۔

اچھے وقت کو یاد کرتے کرتے اچانک بُرے دن یاد آئے تو وہ کہنے لگیں کہ ’ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لاہور میں مجھے اولڈ ایج ہوم میں ایک سال گزارنا پڑا، کیونکہ بیٹی کے سسرال کی یہ خواہش تھی کہ میں اس کے ساتھ نہ رہوں۔ میں نے ایسا بھی کیا لیکن ایک سال تک میری بیٹی اسی حال میں رہی، سو جب میرے پاس کچھ نہیں بچا تو میں اپنی بیٹی اور 7 سالہ نواسے حسین کو لے کر اسلام آباد آگئی۔ اسلام آباد آنے کا مقصد یہ تھا کہ بیٹی کا علاج ہوجائے گا، لیکن کوئی ایسا سرکاری ادارہ نہیں جہاں بیٹی کا علاج ہوسکے‘۔

رافعہ راشد قتیل شفائی کے ہمراہ
رافعہ راشد قتیل شفائی کے ہمراہ

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں انہوں نے ایک کمرا کرائے پر لیا، جس میں وہ اپنی بیٹی اور نواسے کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے اثاثے بیماریوں کی وجہ سے ختم ہوئے اور وہ سڑک پر آگئے ہیں۔ نفسیاتی بیماریوں کو تو پاکستان میں بیماری ہی نہیں مانا جاتا۔ رشتہ دار تو اعتبار ہی نہیں کرتے، الٹا طعنے دیتے ہیں کہ تمہاری بیٹی ڈرامے کرتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میری بیٹی آپ کو بظاہر نارمل نظر آئے گی لیکن اچانک معمولی سی پریشانی پر بھی اسے دورہ پڑ جاتا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوجاتے ہیں۔ بیٹی کے علاج پر ماہانہ 8 سے 9 ہزار روپے کا خرچہ ہوجاتا ہے، لیکن میں کس کو بتاؤں؟ اب تو میرے پاس جو کچھ تھا وہ اس کی بیماری پر لگ چکا ہے‘۔

ایم اے راشد نے اپنی بیٹی کو بڑے لاڈ پیار سے پالا
ایم اے راشد نے اپنی بیٹی کو بڑے لاڈ پیار سے پالا

رافعہ رشید اپنے والد کے انتقال کے بعد تعمیرات کے کام سے بھی منسلک رہیں، لیکن بیٹی کی بیماری کے باعث اس کام کو وقت نہ دے سکیں۔ آپ ان سے بات کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے کٹھن حالات کو روگ نہیں بنایا۔ وہ کافی ہنس مُکھ ہیں اور شفیق رویے کی مالک بھی، حال کی تکلیف دہ کیفیت سے جان چھڑانے کا ان کے پاس ایک آسان طریقہ ماضی کی خوشگوار یادوں میں پناہ لینا بھی ہے۔

وہ صبح 5 بجے اٹھتی ہیں، لاہوری چنے، آلو کے کباب، روٹی، سلاد رائتہ اور دیگر چیزیں خود تیار کرتی ہیں۔ 7 بجے اپنی دکان پر آجاتی ہیں اور دکان کی صفائی بھی وہ خود ہی کرتی ہیں۔ ساری تیار کی ہوئی چیزیں ایک سادہ سے بنے شوکیس کے اندر رکھتی ہیں۔ اگر اسلام آباد کے نواحی علاقے ترامڑی میں ان کی چھوٹی سی دکان پر پراٹھا یا انڈے کا آرڈر آجائے تو وہ گھر سے بنواکر گاہک کو بھیج دیتی ہیں۔

ان کی فکروں کا محور بس ان کی بیٹی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بیٹا تم ہی بتاؤ کہ میرے بعد میری بیٹی کا کیا ہوگا؟ اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا، اس کا باپ اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اس دور میں تو نفسیاتی امراض کی شکار خواتین بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنادی جاتی ہیں اور کوئی داد فریاد بھی نہیں ہوتی‘۔

رافعہ راشد بشریٰ بی بی اور وزیرِاعظم عمران خان تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہیں کہ شیلٹر ہوم کا قیام قابلِ تعریف اقدام ہے لیکن اس کے ساتھ پاکستان کے بڑے شہروں میں نفسیاتی مریضوں کے لیے ہاسٹل بنانے کی بھی ضرورت ہے، جہاں ان کے علاج، رہائش اور عزت نفس کی حفاظت کا بندوبست ہو۔

بنٹی آنٹی کے پاس ایک شاندار ماضی ہے، جو تصاویر کی صورت البموں میں قید ہے۔ کم سنی کی تصاویر دکھاکر وہ مجھے بتاتی ہیں کہ یہ شمیم آرا ہیں، وحید مراد اور رانی کی گود میں بیٹھی یہ بچی میں ہی ہوں، وہ قتیل شفائی کی گود میں بھی نظر آتی ہیں۔

رافعہ اپنے والد کے ہمراہ
رافعہ اپنے والد کے ہمراہ

ماضی کی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے جب حال میں لوٹیں تو مجھ سے کہنے لگیں کہ ’میرے والد نے مجھے حوصلہ سکھایا تھا اور یہی وہ حوصلہ تھا جو اب مجھے کام آرہا ہے۔ میں کسی سے خیرات نہیں مانگتی، البتہ اپنی ریاست سے اتنا مطالبہ ضرور کرتی ہوں کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ اپنائیت کا سلوک روا رکھے‘۔

بنٹی آنٹی کے مطابق خواتین کو اگر کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے قرضہ فراہم کیا جائے اور انہیں ابتدائی 3 ماہ میں سود معاف کیا جائے تو بہت ساری خواتین چھوٹے چھوٹے کاروبار کی مدد سے اپنے مسائل خود حل کرسکتی ہیں، انہیں کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔

یقیناً اسلام آباد کے نواحی علاقے میں یہ چھوٹی سی دکان ملک کے ایک بڑے فلم ساز کی بیٹی کی دکان ہے، لیکن انہوں نے اپنے والد کا نام کبھی استعمال نہیں کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دکان سے روزانہ کتنا کما لیتی ہیں؟ تو جواب آیا کہ ’فی الحال تو کام اتنا زیادہ نہیں ہے۔ مگر امید نہیں چھوڑنی چاہیے‘۔