ہم کب سمجھیں گے کہ ’افراد‘ نہیں ’ادارے‘ اہم ہوتے ہیں

28 نومبر 2019

ای میل

وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ جائیں کہ ادارے افراد سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ رہنما آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن رہ جاتی ہے تو ان کی جانب سے چھوڑی گئی لیگیسی اور وہی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔

وہ لیڈران جو روزِ اول سے اپنی لیگیسی کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنے متعلقہ ادارے، تنظیم یا تحریک یا پھر پیشہ ورانہ کام میں اپنی خدمات کی فراہمی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں، اکثر وہی لیڈران اپنے پیچھے ایک ایسی لیگیسی چھوڑ جاتے ہیں جس کی آبیاری آگے چل کر ان کی جگہ لینے والے دیگر افراد کرتے ہیں۔

دوسری طرف وہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ عہدہ ان کا حق اور کوئی بھی ان جیسی اہلیت کا حامل نہیں ہوسکتا، وہ اپنے پیچھے ایسی لیگیسی چھوڑ جائیں گے جو ان افراد کے پیشروؤں کے لیے آگے بڑھانا تو دُور کی بات، وہ تو ان کے حلق کا کانٹا بن جائے گی۔

بدھ کے روز پورے ملک کی نظروں اور سماعتوں کا محور وہ غیر معمولی عدالتی سماعت تھی جس کا فیصلہ ابھی سنایا جانا باقی ہے۔ مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے کیونکہ جج صاحبان کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے نتیجے پر بہت کچھ انحصار کرتا ہے۔ اس پورے معاملے میں اگر کوئی چیز اہم محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ کس طرح ہم بار بار اس قسم کے حالات میں خود کو پاتے ہیں۔

پاناما مقدمہ اور اس سے قبل سپریم کورٹ اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے درمیان سوئس مقدمات کو دوبارہ کھولنے پر ہونے والی طویل جنگ ماضی کی کچھ ایسی مثالیں ہیں جن میں زیرِ گفتگو آنے والے معاملات تو شاید مختلف رہے ہوں لیکن وہ کورٹ روم ڈرامے ہی تھے جنہوں نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مرکور کیے رکھی اور مستقبل پر غیر یقینی کا غبار پیدا کردیا۔ ظاہر ہے کہ حالات کبھی بھی کسی کے بھی حق میں جاسکتے ہیں۔

ان تمام معاملات سے قبل عدالت میں این آر او سے متعلق کیس کی سماعتیں بھی ہوئیں اور پرائم ٹائم نشریات میں بار بار یہ بتایا جاتا رہتا کہ اگلے 48 گھنٹے نہایت اہم ہیں کیونکہ ایک اور بینچ، ایک اور ایسے فیصلہ کن کیس پر غور کرنے بیٹھا ہے جس پر ملکی قیادت کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اس سے پہلے جج صاحبان کی بحالی کا مسئلہ دیکھنے کو ملا تھا، اور پھر وہ دن بھی آئے کہ جب سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو سننا شروع کیا کہ آیا پرویز مشرف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوسکتی ہے یا نہیں، اور اس مقدمے کی سماعتوں کا سلسلہ نومبر 2007ء میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ انجام کو پہنچا۔

اس قسم کے مختلف معاملات کی فہرست کافی طویل ہے۔ میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میں یہاں ہرگز یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تمام مقدمات ایک جیسی نوعیت رکھتے تھے۔ ہر ایک مقدمے کے اپنے الگ معاملات، تشریح کے لیے اپنے قوانین تھے۔ لیکن ہر ایک مقدمے نے ایک گرداب کو جنم دیا اور یوں لگا جیسے اس کے اندر تاریخ کے سارے حوالے داخل ہو رہے ہوں اور مستقبل کی راہیں اسی سے نکلنے والی ہوں۔ ہر ایک مقدے نے اس احساس کو پیدا کیا کہ ملک کی تقدیر داؤ پر لگی ہے اور بنیادی معاملات کو قانون کی روشنی میں زیرِ غور اور حل کیا جار ہا ہے۔

کسی حد تک یہ سچ بھی تھا۔ اب کوئی بھی آرمی چیف ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کرنے سے پہلے 2 بار ضرور سوچے گا یا پھر کوئی سیاسی رہنما سپریم کورٹ میں دھاوا بولنے سے پہلے 3 بار ضرور سوچے گا، اور یہ سب وکلا تحریک اور ملک کے اقتداری ڈھانچے میں عدالت کا پہلے سے بڑھ کر مؤثر کردار ادا کرنے کی وجہ سے ممکن ہوا۔

لیکن دوسری طرف ایک حد تک ہم نے اس ملک کو متعدد مرتبہ بالخصوص گزشتہ دہائی میں ایسے حالات میں گرفتار پایا، جس سے اعلیٰ سطح پر اختیارات کی جنگ میں آنے والی شدت ظاہر ہوتی ہے۔

لیکن اب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔ اختیارات کی اس جنگ کو جاری رکھنے میں اہم کردار ان افراد کا ہے جنہیں ان اداروں کی ترقی سے زیادہ اختیارات کی طلب ہوتی ہے، جن اداروں نے انہیں اختیارات سے نوازا ہوتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کل ہمیں ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کروائی گئی کہ گزشتہ 20 برسوں میں صرف ایک ہی ایسے آرمی چیف گزرے ہیں جنہوں نے نہ مدت ملازمت میں توسیع لی اور نہ ہی سب کے سامنے توسیع کی کوششیں کیں۔

اختیارات کی یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ مدتِ ملازمت میں توسیع کی پیاس بجھ نہیں جاتی۔ یہ جنگ اس وقت تک نہیں تھمے گی جب تک ملک کے سب سے زیادہ طاقتور عہدوں پر فائز لوگ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ عہدہ ان سے زیادہ مقدم ہے، جو ان کی آمد سے پہلے بھی تھا اور ان کے روانگی کے بعد بھی رہے گا۔ انہیں اپنے ادارے کی خدمت کے لیے عہدے دیا گیا ہے، نہ کہ اپنی خدمت کے لیے، اور اس خدمت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان تمام قوانین کا احترام کیا جائے جس کی بنا پر اس عہدے کو تشکیل دیا گیا ہے اور جن کے ذریعے وہ عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

عدالتی کارروائیوں نے ایک بات تو واضح کردی اور وہ یہ کہ: ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں توسیع لینے والوں نے دراصل خود کو ہی توسیع سے نوازا تھا کیونکہ وہ اپنے وقت میں فوجی حکمران تھے، ان میں سے صرف جنرل کیانی ہی ایک ایسے جنرل ہیں جنہوں نے مقابلے کے بغیر توسیع لی۔

کورٹ کا کہنا ہے کہ آج حالات ویسے نہیں ہیں۔ جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری کے حوالے سے، بظاہر آزادانہ فیصلہ ایک ایسی سیاسی حکومت نے کیا ہے جس کی قیادت ایک ایسے وزیرِاعظم کر رہے ہیں جو ماضی میں آرمی سربراہان کو توسیع دیے جانے کے فیصلوں کے سخت مخالف رہے، خاص طور پر جب ایسی ہی توسیع جنرل کیانی کو دی گئی تھی۔

ان دنوں موجودہ وزیرِاعظم کے الفاظ ملاحظہ کیجیے: ’پہلی جنگِ عظیم کے موقعے پر بھی کسی کو کبھی توسیع نہیں دی گئی کیونکہ ادارے اپنے قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں، جب آپ قوانین توڑتے ہیں یا پھر کسی فرد کی خاطر ان میں تبدیلی لاتے ہیں، جیسا کہ مشرف اور ہر آمر نے کیا، تو اس طرح آپ ادارے کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ ملک بچانا ہے تو ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا پڑے گا، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح مشرف نے آرمی کی ساکھ خراب کی۔ چاہے کوئی بھی ادارہ ہو، جج ہو یا پھر جنرل، قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، اور ان سب کو ان قوانین کے مطابق اپنا اپنا کام سرانجام دینا چاہیے‘۔

اسی انٹرویو میں انہوں نے صاف صاف لفظوں میں یہ بھی کہا تھا کہ جس طرح صدر زرداری نے جنرل کیانی کو توسیع دی ہے، اگر وہ ہوتے تو انہیں ہرگز توسیع نہ دیتے۔

فوج کے ادارے کے ساتھ صرف اس کی طاقت اور اس کا وقار ہی جڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ ملک کا ایک ممتاز ادارہ ہونے کے ناتے اسے دیگر اداروں کے لیے مثال قائم کرنی چاہیے۔


یہ مضمون 28 نومبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔