پرویز مشرف خرابی صحت کے باعث دبئی کے ہسپتال میں زیر علاج

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2019

ای میل

ہسپتال منتقلی کے بعد پرویز مشرف کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے، جو ان کی صحت کی صورتحال جاننے میں مدگار ہوں گے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
ہسپتال منتقلی کے بعد پرویز مشرف کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے، جو ان کی صحت کی صورتحال جاننے میں مدگار ہوں گے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

کراچی: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو امراض قلب اور فشار خون (بلڈ پریشر) کے حوالے سے پیچیدگیوں کے باعث دبئی کے ہسپتال میں داخل کروادیا گیا۔

ان کی سیاسی جماعت کے ذرائع نے انہیں ہسپتال میں داخل کروانے کی تصدیق کی، اس سے قبل ایک ٹیلی ویژن چیننل پر سابق صدر کو ’ہنگامی طبی امداد‘ کے لیے اسٹریچر پر دبئی کے امریکن ہسپتال منتقل کرنے کی فوٹیج چلائی گئی تھی، جس کی بعد میں تصدیق ہوگئی۔

ان کی پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ پرویز مشرف کو ’صحت کے کچھ سنگین مسائل لاحق ہیں اور انہیں سینے میں درد اور بے چینی کی شکایت بھی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس: کب کیا ہوا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈاکٹروں نے ان کا قیام گاہ پر آکر معائنہ کیا تھا جس کے بعد مزید پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سابق صدر کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کروانے کی ہدایت کی گئی تھی، ہسپتال منتقلی کے بعد پرویز مشرف کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے جو ان کی صحت کی صورتحال جاننے میں مددگار ہوں گے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے خصوصی عدالت کو سابق صدر کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 28 نومبر کو سنانے سے روک دیا تھا اور وفاقی حکومت کو کیس کی کارروائی میں رہ جانے والی خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی چاہتے تھے کہ خصوصی عدالت ضروری عمل کے بعد کیس کا فیصلہ جلد کرے چنانچہ خصوصی عدالت نے 28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں حکومت کو 5 دسمبر تک نئی استغاثہ ٹیم مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں:سنگین غداری کیس: ہم ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند نہیں، خصوصی عدالت

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی درخواست پر سنایا تھا، جو پرویز مشرف کے خلاف کیس کی مدعی بھی ہے۔

یاد رہے کہ 16 نومبر کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مشتمل خصوصی عدالت کے بینچ نے سنگین غدار کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے اسے 28 نومبر کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اس کے خلاف وزارت داخلہ نے اسلام ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف درخواست باضابطہ طریقے سے دائر نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی خصوصی عدالت کی تشکیل درست ہے۔

وزارت داخلہ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کیس میں خامیوں کی نشاندہی کے باعث پروسیکیوشن ٹیم کو فارغ کیا گیا، جنہوں نے وزارت کی اجازت کے بغیر عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے تھے۔


یہ خبر 3 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔