وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کو وزیر مملکت کے فرائض تفویض

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2019

ای میل

نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا اور شہزاد اکبر نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی — تصویر پی آئی ڈی
نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا اور شہزاد اکبر نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی — تصویر پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو وزیر مملکت برائے داخلہ کے فرائض بھی تفویض کردیے گئے۔

اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو منی لانڈرنگ اور پیسے کی منتقلی سے منسلک دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے فعال اور اچھی کارکردگی کا حامل ادارہ بنانے کے لیے وزیراعظم نے انہیں ایف آئی اے کی تنظیم نو کا ذمہ بھی سونپ دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شہزاد اکبر کی تعیناتی سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے اختیارات میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

قبل ازیں وزیر مملکت برائے داخلہ اور نو تعینات شدہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا ڈی جی ایف آئی اے تعینات

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ بدعنوانی، سائبر کرائم، مالیاتی جرائم، امیگریشن سے متعلق جرائم اور منی لانڈرنگ جیسے منظم جرائم سے لڑنا اور بلا تفریق احتساب، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا موٹو ہے۔

اس موقع پر نئے ڈی جی ایف آئی اے نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ملک کی خدمت کے لیے اپنی بہترین کوشش کریں گے۔

اس سلسلے میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے احتساب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (مالیاتی جرائم کے انسداد کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم) کی ہدایات کے تحت منی لانڈرنگ کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور اس لیے انہوں نے منی لانڈرنگ، انسداد بدعنوانی اور اس سے متعلق دیگر جرائم پر توجہ دینے کی ذمہ داری دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے تدارک کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ اور سوئٹزرلینڈ جیسی طاقتوں سے رابطے کے دوران یہ بات ان کے مشاہدے میں آئی کہ منی لانڈرنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایف آئی اے کی تنظیم نو انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن احتجاجاً ملازمت سے مستعفی

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حکومت کو اس ایجنسی کے عہدیداران کو کچھ مراعات دینا ہوں گی، مثال کے طور پر ایف آئی اے کا ایک کانسٹیبل 35 ہزار ماہوار تنخواہ لے رہا ہے جبکہ وہی کانسٹیبل قومی احتساب بیورو (نیب) میں 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ وہ جلد ایف آئی اے کی تنظیم نو کا منصوبہ وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کردیں گے۔

قبل ازیں ترقی پانے والے افسران کے ساتھ ایک ملاقات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی ترقی صرف میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور اس صورت میں بیوروکریسی کو جانفشانی سے کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں ہمارے ملک میں مثالی گورنس تھی لیکن اب متعدد وجوہات کی بنا پر یہ دنیا کے کئی ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیاض الحسن چوہان کو ایک مرتبہ پھر پنجاب کا وزیراطلاعات بنادیا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ آج سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کو مل کر ملک کے مستقبل کی سمت طے کرنی ہے جس کے لیے نئی سوچ اور گڈ گورنس ضروری ہے اور اس کے لیے اپنی ذمہ داریاں قومی فریضہ اور جہاد سمجھ کر ادا کرنا ہوں گی۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان میں بے پناہ افرادی قوت اور وسائل موجود ہیں اور گزشتہ 15 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے معیشت کے ہر شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے اور معاشی استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے بیوروکریسی کو حکومت اور عوام کی بہتری کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔