برطانوی ایجنسی اور عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا، ملک ریاض

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2019

ای میل

ملک ریاض نے کہا کہ اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں کام کررہے ہیں — فائل فوٹو: فیس بک
ملک ریاض نے کہا کہ اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں کام کررہے ہیں — فائل فوٹو: فیس بک

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے کہا ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ایک سال تحقیقات کرنے کے بعد بھی ہمیں مجرم قرار نہیں دیا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ کی عدالت کہہ رہی ہے کہ ہم نے جرم نہیں کیا تو آگے بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

مزید پڑھیں: برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کی جائیداد کا قبضہ حاصل کرلیا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے بچے اوررسیز پاکستانی اور برطانوی شہری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری طرح دوسرے لوگوں کو بھی بیرون ملک سے آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

ملک ریاض نے کہا کہ اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کریں گے اور رقم ادا کریں گے چاہیے اس کے لیے اپنے گھر ہی کیوں نہ بیچنے پڑیں۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل ملک ریاض نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں 19 کروڑ پاؤنڈز کی رقم جمع کروانے کے لیے برطانیہ میں موجود ظاہر شدہ قانونی جائیداد فروخت کی۔

واضح رہے کہ لندن حکام کی جانب سے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے کی پیشکش قبول کرنے کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ایک بیان جاری کیا تھا جو پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی جائیداد فروخت کر کے سپریم کورٹ میں رقم جمع کروانے کے مؤقف سے متضاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: نیشنل کرائم ایجنسی ملک ریاض سے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے پر رضامند

اس بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ لندن میں وَن ہائیڈ پارک پلیس کے نام سے موجود 5 کروڑ پاؤنڈز مالیت کی جائیداد کا قبضہ اب برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے پاس ہے اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ ریاست پاکستان کو دی جائے گی۔

تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس صورت میں ملک ریاض کس طرح اس رقم کو بحریہ ٹاؤن کیس کی رقم کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے۔

اس ضمن میں ڈان نے بحریہ ٹاؤن کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دی گئی زمین اور اس کا نجی ٹھیکیدار سے تبادلہ اور جو کچھ بھی صوبائی حکومت نے نو آبادیاتی حکومتی زمین کے قانون برائے 1912 کے تحت کیا وہ غیر قانونی تھا۔

مزید پڑھیں: ملک ریاض: ادنیٰ ٹھیکیدار سے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بننے تک کا سفر

دوسری جانب این سی اے کی جانب سے 2 روز قبل یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اس نے ملک ریاض کے اہلِ خانہ سے منسلک جائیدادوں اور اکاؤنٹس کی ایک ماہ تک تحقیقات کرنے کے بعد ان کی جانب سے 19 کروڑ پاؤنڈ کی پیشکش قبول کرلی۔

این سی اے کی جانب سے برطانیہ میں ملک ریاض کے اثاثوں کی تحقیقات کا پہلا ریکارڈ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد دسمبر 2018 میں سامنے آیا۔

اس حوالے سے 14 اگست 2019 کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کرائم ایجنسی کا کہنا تھا کہ ’این سی اے نے اُن 8 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے احکامات دیے تھے جن میں 10 کروڑ پاؤنڈز موجود ہیں جو مبینہ طور پر کسی دوسرے ملک میں رشوت اور بدعنوانی کے ذریعے حاصل کیے گئے، بعدازاں دسمبر 2018 میں ہونے والی ایک سماعت کے بعد ایک فرد سے منسلک 2 کروڑ پاؤنڈز منجمد کردیے گئے تھے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے 12 اگست کو اکاؤنٹ فریزنگ آرڈرز (اے ایف او) جاری کیے جو برطانوی کرمنل ایکٹ 2017 کے تحت اب تک ’فریز کی گئی سب سے بھاری رقم ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی:الاٹمنٹ غیر قانونی قرار، پلاٹس کی فروخت روکنے کا حکم

مذکورہ معاملے نے بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں بھی اپنی جگہ بنائی جس میں دی گارجین، الجزیرہ، فنانشل ٹائمز شامل ہیں۔

برطانوی اخباروں نے لکھا کہ ملک ریاض گریڈ ’اے‘ کا 16 ہزار مربع فٹ پر محیط خاندانی گھر ون ہائیڈ پارک پلیس حکام کے حوالے کریں گے، ایک رپورٹ کے مطابق یہ عالیشان گھر 10 بیڈرومز پر مشتمل مینشن ہے، جس میں سنیما، سوئمنگ پول، جمنازیم، اسٹیم روم اور سپا بھی موجود ہے۔

برطانیہ کی ڈیجیٹل لینڈ رجسٹری کی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی ورجن آئی لینڈز کی ’الٹیمیٹ ہولڈنگز لمیٹڈ‘ اس جائیداد کی رجسٹرڈ مالک ہے، مذکورہ دستاویز میں 14 نومبر 2019 تک کی معلومات درج تھیں۔

لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق یہی جائیداد 2016 میں 4 کروڑ 25 لاکھ پاؤنڈز میں حسن نواز شریف سے خریدی گئی تھی، تاہم شریف خاندان کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مذکورہ جائیداد فروخت کرنے کے بعد حسن نواز کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔