ترقیاتی منصوبوں میں روسی شمولیت مشترکہ مفاد میں ہے، وزیر اقتصادی امور

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2019

ای میل

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر روس کے وزیر تجارت دنیس مانتوروف کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں — فوٹو: ڈان ںیوز
وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر روس کے وزیر تجارت دنیس مانتوروف کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں — فوٹو: ڈان ںیوز

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں روس کی شمولیت دونوں ممالک، روس اور پاکستان، کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

اسلام آباد میں روس کے وزیر تجارت دنیس مانتوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماد اظہر نے ریلوے کے شعبے میں تعاون پر خصوصی طور پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ‘روس ریلویز سے متعلق پرزہ جات یورپ کو برآمد کرتا ہے، دوسری جانب پاکستان کی ورک شاپس فرسودہ ہیں اور انہیں اپ گریڈ کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان، ایک ہی جیسے منصوبوں میں روس کے ساتھ شراکت داری سے بہت زیادہ فواد حاصل کرسکتا ہے'۔

مزید پڑھیں: روس کا پاکستان سے مسئلہ کشمیر کے دو طرفہ حل پر زور

حماد اظہر نے مزید کہا کہ ‘اس میں بہت سے سبق ہیں جنہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ٹیکنالوجی منتقل ہوسکتی ہے، ہم اپنے لوکوموٹو اور گاڑیوں کی پیداوار کو بہتر بنا سکتے ہیں، یہ سب روس کے ساتھ شراکت داری کی صورت ہی میں ہوسکتا ہے اور ہم اس کے منتظر ہیں’۔

گڈو پاور پلانٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات کی طویل تاریخ موجود ہے، اِس وقت توانائی کے منصوبے اہم تھے۔

ہم (حکومت) یقین رکھتی ہے کہ جب (توانائی) کے نئے منصوبوں اور موجودہ منصوبوں کی اپ گریڈنگ کی بات کی جائے تو روس کو ہماری اور خطے کی توانائی کی ضرروت کے بارے میں باخوبی علم ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دفتر خارجہ میں پاکستان اور روس کی حکومتوں کے درمیان قائم کمیشن کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی تربیت کے معاہدے پر دستخط

بعد ازاں جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور نے روسی وفد کو پاکستان میں ہونے والی حالیہ معاشی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا اور ملک کی جانب سے اقتصادی اشاریوں میں بہتری پر روشنی ڈالی۔

دونوں جانب سے متعدد شعبوں، خصوصی طور پر توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ، ریلوے، زراعت اور سائنس اور ٹیکنالوجی، سے متعلق مستقبل میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ پاکستان پر سے زرعی اجناس، چاول اور آلو، کی برآمدات پر عائد پابندی کو عارضی طور پر ہٹانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے بہتر تعاون سے دو طرفہ تجارت اور تجارتی کارروائیوں میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا۔