الیکشن کمشنر و ممبران کے تقرر کا معاملہ: رہبر کمیٹی کی حکومت کو دھمکی

ای میل

اکرم درانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارا اعتماد گزشتہ الیکشن کی وجہ سے نہیں رہا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
اکرم درانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارا اعتماد گزشتہ الیکشن کی وجہ سے نہیں رہا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے پاس آخری موقعہ ہے وہ چیف الیکشن کمشنر و ممبران کے تقرر کا معاملہ حل کر لے۔

مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ممبران کے تقرر کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات جاری ہیں۔

مزیدپڑھیں: ’وزیر اعظم مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن اراکین کا انتخاب چاہتے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ 'الیکشن کمیشن پر ہمارا اعتماد گزشتہ الیکشن کی وجہ سے نہیں رہا'۔

رہبر کمیٹی کے کنوینر نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں جو فیصلہ ہوا تھا اس حوالے سے حکومت سے بات چیت بھی چل رہی ہے۔

اکرم درانی نے خواہش ظاہر کی کہ کوشش ہے الیکشن کمیشن کے ممبران اورچیف کا معاملہ پارلیمنٹ حل کرے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ 'حکمراں جماعت اتنی نااہل ہے کہ خود معاملہ حل نہیں کر پارہی اس لیے حکومت کسی بھی بات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہورہا'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت مایوسی کا شکار ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تقرر کا فیصلہ ایک ساتھ کرنے پر اتفاق ہے۔

اکرم درانی نے مزید کہا کہ 'ہم نیک نام لوگوں کو الیکشن کمیشن میں لانا چاہتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کے نئے اراکین سے حلف نہ لینے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج

رہبر کمیٹی کے کنوینر نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن کا اعتماد بحال کرنا ہے اس لیے اچھی شہرت والی شخصیت سامنے لانا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور رہبر کمیٹی کے رکن احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کو تین سال پہلے چیف الیکشن کمشنر کے ریٹائرہونے سے متعلق پہلے سے علم میں تھا لیکن حکمراں جماعت نے کوئی سنجیدہ قدم انہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن کی مشاورت پہلے ہی ہوجانی چاہیے تھی۔

احسن اقبال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کے حوالے سے اپنے ہی صدر سے غیر آئینی کام کروایا اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

یاد رہے کہ اگست میں صدر مملکت عارف علوی نے خالد محمود صدیقی اور منیر احمد خان کاکڑ کو بالترتیب سندھ اور بلوچستان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا رکن تعینات کردیا تھا۔

تاہم اگلے ہی روز اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے صدر عارف علوی کی جانب سے تقرر کردہ الیکشن کمیشن اراکین سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔

خیال رہے کہ آئین کی دفعہ 213 کی شق نمبر 2 حصہ الف کے تحت وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کو چیف الیکشن کمشنر کے تقرر یا سماعت کے لیے نام بھجواتا ہے۔

مزیدپڑھیں: الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا حکم

4 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر و ممبران کے تقرر کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوا جس کے بعد اسے ایک ہفتے کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر و ممبران کے تقرر کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی کی صدارت انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کی جس میں اپوزیشن جماعت کے راجہ پرویز اشرف اور احسن اقبال سمیت دیگر بھی شامل تھے۔

حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے سے بچانے کے لیے عدالت سے ایک سے دو ہفتوں کی توسیع مانگی جائے گی۔

خیال رہے کہ الیکشن کیمشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہوجانا چاہیے تھا تاہم اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث نہ ہوسکا۔

واضح رہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کے معاملے پر ہائی کورٹ سے رجوع کر کے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے معاملے کے حل کے لیے 10 روز کی مہلت کی درخواست کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کی سیاست پر مسلّط خاندان

5 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کا معاملہ 10 روز میں حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ 'سمجھ نہیں آئی کہ پارلیمنٹ کے معاملے کو عدالت میں کیوں لارہے ہیں، ہمارے لیے آسان ہے کہ ہم کیس سن لیں لیکن معاملہ پارلیمنٹ کا ہے وہ خود حل کرے'۔

5 دسمبر کو ہی وزیراعظم کی جانب سے اس عہدے پر تعیناتی کے لیے بابر یعقوب، فضل عباس مکین اورعارف خان کے نام تجویز کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ بابر یعقوب فتح محمد اس وقت سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے پر کام کر رہے ہیں جبکہ فضل عباس مکین بھی سابق سیکریٹری کے طور پر مختلف وزارتوں میں کام کر چکے ہیں، تجویز کردہ تیسری شخصیت عارف خان چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم کو ایک خط ارسال کر کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے نام تجویز کیے تھے۔

مزیدپڑھیں: ’وزیر اعظم مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن اراکین کا انتخاب چاہتے ہیں‘

انہوں نے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں الیکشن کمشنر کے لیے ناصر سعید کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام کی تجویز دی تھی

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہونا تھا لیکن اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث یہ نہ ہوسکا۔