’وزیر اعظم مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن اراکین کا انتخاب چاہتے ہیں‘

21 مارچ 2019

ای میل

آئین کے تحت الیکشن کمیشن اراکین کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف مشاورت سے کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
آئین کے تحت الیکشن کمیشن اراکین کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف مشاورت سے کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین کی تقرری لازمی آئینی ضرورت کے برخلاف قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت کے بغیر کرنا چاہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے یہ بات اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں کہی جہاں ان کے لکھے گئے خط کی ایک نقل ڈان کو موصول ہو گئی۔

مزید پڑھیں: 2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کے باعث الیکشن کمیشن کا کام متاثر

خط میں کہا گیا کہ قائد حزب اختلاف کو 11مارچ کو ایک نوٹس موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سندھ اور بلوچستان کے اراکین کے لیے تین، تین نام تجویز کریں۔

خط میں کہا گیا کہ 11 مارچ 2019 کے نوٹس کے حوالے سے بلوچستان اور سندھ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کو تین ناموں کی تجویز دینا آئین کے آرٹیکل 213 کی شق 2اے کی خلاف ورزی کیونکہ وزیر اعظم اس معاملے پر قائد حزب اختلاف سے مشاورت میں ناکام رہے، مذکورہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اس وقت تک طلب نہیں کیا جا سکتا جب تک آئین میں درج مشاورتی عمل مکمل نہ کر لیا جائے۔

آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کے تحت وزیر اعظم قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمیشنر یا کمیشن کے کے اراکین کی تقرری کے لیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں تاکہ ان پر بحث کے بعد ایک نام طے کر لیا جائے۔

اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق نہ ہو سکے تو قانون کہتا ہے کہ دونوں رہنما الر الگر فہرستیں پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے جس کے بعد حتمی نام کا تعین کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن اراکین کا تقرر 45 دن کی آئینی مدت میں نہ ہوسکا

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دونوں اراکین کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے لیے حکومت اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جس نے وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو چیئرپرسن منتخب کیا تھا تاہم یہ پارلیمانی کمیٹی اس وقت کام کر سکتی ہے جب اسے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی متفقہ یا الگ الگ فہرستیں موصول ہو جائیں۔

سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے اراکین عبدالغفار سومرو اور جسٹس ریٹائرڈ شکیل بلوچ 26جنوری کو ریٹائر ہو گئے تھے اور آئین کے تحت ان کے متبادل کا تقرر 12مارچ تک ہو جانا چاہیے تھا۔