الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا حکم

14 اکتوبر 2019

ای میل

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہیے — فائل فوٹو: اے ایف پی
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہیے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا حکم دے دیا۔

الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کے خلاف درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ ڈیڈلاک ختم کروائیں اور الیکشن کمیشن کو ’نان فنکشنل‘ بننے سے روکیں۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی تقرریوں سے متعلق درخواستیں سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی دائر ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن کے نئے اراکین سے حلف نہ لینے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے، کیا آپ الیکشن کمیشن کو غیر فعال کرنا چاہتے ہیں؟‘

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن تقریبا غیر فعال ہوچکا ہے، کیا پارلیمنٹ اتنا چھوٹا معاملہ حل نہیں کرسکتی؟‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت ابھی تک ڈیڈ لاک کا دفاع کرنا چاہتی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے پارلیمنٹ کی جانب سے مذکورہ معاملہ حل کرنے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’کون کہے گا کہ پارلیمنٹ کے فورم پر یہ معاملہ حل نہیں ہونا چاہیے؟‘

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے خلاف ضابطہ 2 اراکین کا تقرر کیا، الیکشن کمیشن کا عدالت میں جواب

ساتھ ہی عدالت نے استفسار کیا کہ ’آئینی اداروں کو غیر فعال نہیں ہونا چاہیے کیا حکومت ایسا چاہتی ہے؟'

سماعت سے قبل وزارت برائے پارلیمانی امور کے سیکریٹری نے وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست کے فیصلے تک ہائی کورٹ میں اس معاملے کو زیر التوا رکھا جائے۔

واضح رہے کہ 22 اگست کو صدر مملکت عارف علوی نے خالد محمود صدیقی اور منیر احمد خان کاکڑ کو بالترتیب سندھ اور بلوچستان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا رکن تعینات کردیا تھا۔

تاہم اگلے ہی روز چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے صدر عارف علوی کی جانب سے تقرر کردہ الیکشن کمیشن اراکین سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ان 2 اراکین کی تعیناتی کو آئین میں اراکین کی تقرری کے لیے درج آرٹیکل 213 اور 214 کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

بعدازاں سینئر وکیل جہانگیر خان جدون نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تعیناتی کو چیلنج کیا تھا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے اراکین عبدالغفار سومرو اور جسٹس (ر) شکیل بلوچ رواں سال جنوری میں ریٹائر ہو گئے تھے اور قانون کے تحت ان 2 عہدوں کے لیے جگہ کو 45 دنوں میں پُر کرنا ہوتا ہے۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے درمیان اختلاف کے باعث ان 2 عہدوں پر تقرر کی مدت مارچ میں گزر گئی تھی، جس کے بعد عمران خان نے ان عہدوں کے لیے 3، 3 نام شہباز شریف کو بھیج دیے تھے لیکن اس کے باوجود دونوں فریق کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا تھا، جس کے بعد صدر مملکت کی جانب سے تقرریاں سامنے آئیں تھیں۔