امریکا کا بحرالکاہل میں ممنوع بیلسٹک میزائل کا تجربہ

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2019

ای میل

محکمہ دفاع کے مطابق بیلسٹک میزائل نے 500 میل سے زائد کی پرواز کی—تصویر: اسکرین شاٹ ڈیفینس نیوز
محکمہ دفاع کے مطابق بیلسٹک میزائل نے 500 میل سے زائد کی پرواز کی—تصویر: اسکرین شاٹ ڈیفینس نیوز

واشنگٹن: پینٹاگون نے امریکا اور روس کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کے تحت ممنوع قرار دیے گئے میزائل کا تجربہ کرلیا۔

مذکورہ معاہدہ گزشتہ برس ترک کردیا گیا تھا، تاہم اس پر اسلحے کی روک تھام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے ماسکو کے ساتھ اسلحے کی غیر ضروری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پروٹو ٹائپ میزائل کو غیر جوہری وار ہیڈ سے لیس کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تعاون سے اسرائیل کا اینٹی میزائل سسٹم کا تجربہ، ایران کے خلاف بڑی کامیابی قرار

تاہم پینٹاگون نے اس کی مزید خاصیت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میزائل کو کیلیفورنیا میں موجود وینڈن برگ ایئربیس کے اسٹیٹک لانچ اسٹینڈ سے لانچ کیا گیا جو کھلے سمندر میں گرا۔

اس ضمن میں محکمہ دفاع کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ بیلسٹک میزائل نے 500 میل سے زائد کی پرواز کی۔

واضح رہے کہ مذکورہ تجربہ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلحے کے کنٹرول کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس ضمن میں امریکا اور روس کے مابین 2010 میں ہونے والی نیو اسٹارٹ ٹریٹی فروری 2021 میں ختم ہوجائے گی جس کی شرائط پر مزید مذاکرات کیے بغیر اسے مزید 5 سال کے لیے توسیع دی جاسکتی ہے تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کروز میزائل کے تجربے میں چوتھی بار ناکام

دوسری جانب پینٹاگون نے میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج بتانے سے بھی انکار کیا۔

گزشتہ موسمِ بہار میں امریکی عہدیداروں نے میزائل تجربے کے منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی رینج 3 ہزار سے 4 ہزار کلومیٹر تک ہوگی، یہ رینج چین کے مختلف حصوں میں اہداف کا نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔

واضح رہے کہ 1987 کی انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس (آئی این ایف) معاہدے کے مطابق زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایسے کروز اور بیلسٹک میزائل جن کی رینج 500 کلومیٹر سے 5 ہزار 500 کلومیٹر ہو، ممنوع قرار دیے گئے تھے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی این ایف کو ترک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کی پابندی کررہے ہیں جبکہ روس نے امریکا کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کروز میزائل نصب کر کے اس کی خلاف ورزی کی۔

اس معاہدے کو ترک کرنے کے بعد اگست میں بھی پینٹاگون نے ایک آئی این ایف رینج کے کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔