نواز شریف رپورٹس بھیجے بغیر ضمانت میں توسیع طلب کر رہے ہیں، یاسمین راشد

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد ملتان میں میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد ملتان میں میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ قیدی نواز شریف اپنی صحت سے متعلق رپورٹس نہیں بھیجتے اور ضمانت میں توسیع کی درخواست دے رہے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ 'کبھی غلط بیانی نہیں کی اور نہ آئندہ ایسا کوئی ارادہ ہے، اہم یہ ہے کہ نواز شریف کو کچھ ہفتے دیے گئے تھے کہ اپنی بیماری کی تشخیص کرائیں'۔

انہوں نے بتایا کہ '25 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان کی ضمانت کی مدت میں توسیع کے لیے رپورٹ جمع کرائی، محکمہ داخلہ نے 27 دسمبر کو ہمیں وہ رپورٹس بھجوائیں جس کے بعد ہم نے بورڈ تشکیل دیا تھا'۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو صحت سے متعلق رپورٹس 48گھنٹے میں فراہم کرنے کی ہدایت

ان کا کہنا تھا کہ '3 جنوری کو بورڈ کے مکمل ہونے کے بعد جب نواز شریف کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو بورڈ نے بتایا کہ خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں جامع رپورٹ شامل نہیں ہے کہ وہاں کیا ہوا ہے'۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ 'خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں ایک پرانی سمری تھی جس میں وہی کچھ لکھا تھا جو پہلے بھی بتایا گیا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ '25 دسمبر تک نواز شریف کا پی ای ٹی اسکین بھی نہیں ہوا تھا تاہم 3 تاریخ کو ہی ہم نے واپس رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھیجی اور کہا کہ یہ ناکافی ہیں مکمل رپورٹس منگوائی جائیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس کے بعد 13 تاریخ تک کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور پھر میں نے خود نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ٹیلی فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں رپورٹس بھجوادوں گا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'رپورٹس آنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کی جانب سے رپورٹس برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو جمع کرائی جائیں گی جو تصدیق کے بعد محکمہ داخلہ کو بھیجے گا جہاں سے پھر ہمیں موصول ہوں گی اور اس کے بعد بورڈ تشکیل دیا جائے گا اور پھر رائے دی جاسکے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس رپورٹس اب تک نہیں آئی ہیں، نواز شریف صاحب سزا یافتہ قیدی تھے، مہربانی کرکے جلد از جلد اپنا علاج کرائیں اور واپس آجائیں'۔

یہ بھی پڑھیں: کیفے میں چائے پینے کی تصویر، نوازشریف کی صحت پر حکومت کے شکوک و شبہات

یاد رہے کہ دو روز قبل سوشل میڈیا پر نواز شریف کی تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں انہیں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی خرابی صحت کے دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں گزشتہ روز وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو براہ راست خط لکھ دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ آپ کو 48 گھنٹوں میں اپنی میڈیکل رپورٹ فراہم کرنی ہوگی کیونکہ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ بالکل ٹھیک نظر آ رہے ہیں اور سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے باعث تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

مقامی سطح پر مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

تاہم اب ان کی ریسٹورنٹ کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔