نواز شریف کو صحت سے متعلق رپورٹس 48گھنٹے میں فراہم کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نواز شریف کی بیماری کے سلسلے میں مزید کسی بھی پیشرفت سے آگاہ نہیں کیا گیا اور ان کے ڈاکٹرز کو 48گھنٹوں کے اندر رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نواز شریف کی چند تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جس میں انہیں ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیفے میں چائے پینے کی تصویر، نوازشریف کی صحت پر حکومت کے شکوک و شبہات

ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی خرابی صحت کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔

لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا کہ ہمیں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے جو رپورٹس بھیجی گئی تھیں وہ مکمل اور تسلی بخش نہیں تھیں اور اور اس کے بعد ان کے بیرون ملک معالج نے ہمیں جو خط لکھ کر بھیجا وہ اس سمری سے مماثلت رکھتا تھا جو ہم نے نواز شریف کی صحت کے بارے میں آپ رپورٹرز کو دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ نواز شریف کو ہائپر ٹینشن ہے، ہائپر لپیڈیمیا ہے، ٹائپ ٹو ذیابیطس ملائٹس ہے اور ان سب چیزوں کے بارے میں ہمیں پہلے سے معلوم تھا، ہماری رپورٹس میں بھی یہ بات موجود تھی۔

ڈاکٹر یاسمین کا کہنا تھا کہ لندن سے نواز شریف کی 2003 سے لے کر اب تک کی بیماریوں کی سمری بنا کر ہمیں بھیج دی گئی اور جو رپورٹس ہم نے انہیں بھیجی تھیں، انہوں نے بعدازاں اسی کی سمری بنا کر ہمیں واپس بھیج دی اور یہ ڈاکٹر ڈیوڈ آر لورنس کی جانب سے بھیجی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ایک اور خط منسلک تھا اور اس خط میں کہا گیا تھا کہ ہم ہسپتال میں پیک اسکین کا انتظام کر رہے ہیں اور بیماری کی تشخیص کے بعد انہوں نے بھی انہی بیماریوں کا پتہ لگایا جن کی ہم نے تشخیص کی تھی۔

یاسمین راشد نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں اس بیماری کی وجہ کے بارے میں پتہ نہیں چل رہا اس لیے ہم ایک پیک اسکین کرا رہے ہیں جس کی ہم نے یہاں نواز شریف کو پیشکش بھی کی تھی جس پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ میں اپنے فزیشن سے بات کر کے آپ کو بتاؤں گا اور پھر انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جب نواز شریف کو ریسٹورنٹ میں چائے شائے پیتے دیکھا تو ان کے معالج ڈاکٹر عدنان کو فون کیا اور کہا کہ آپ لوگ ایک طرف کہتے ہیں کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے، ہمیں لکھ کر بھیجا ہے کہ انہیں اسٹروک کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں لیکن کیا یہ سیر سپاٹے بھی علاج کا حصہ ہیں؟ اور آپ لوگوں سے مل بھی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف آپ بتارہے ہیں کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے اور ان کی بیٹی کو بھی باہر بھیجنے کی درخواست کر رہے ہیں کیونکہ انہیں والد کی تیمارداری کرنی ہے لیکن کیا بیٹی ریسٹورنٹ میں تیمارداری کرے گی کیونکہ تیمارداری تو ان کی ہوتی ہے جو بستر پر ہوں لیکن وہ تو گھوم رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹرز نے نواز شریف کے خون کی ٹیسٹ رپورٹس غیرتسلی بخش قرار دے دیں

صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ ہم نے انہیں جواب لکھ کر بھیجا کہ جو دستاویزات فراہم کی گئی ہیں وہ کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے لیے نامکمل ہیں کیونکہ جو دو صفحے ہمیں بھیجے گئے، ان میں کوئی بھی نئی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خط لکھ کر محکمہ داخلہ کو بھیج دیا ہے کیونکہ ہم ان رپورٹ پر کچھ بھی نہیں کہہ سکتے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 6ہفتوں میں اب تک کچھ کیوں نہیں ہوا اور اب کس بنیاد پر آپ توسیع کی ایک اور درخواست کر رہے ہیں۔

یاسمین راشد نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو براہ راست خط لکھ دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے آپ کو 48 گھنٹوں میں اپنی میڈیکل رپورٹ فراہم کرنی ہوگی کیونکہ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ بالکل ٹھیک نظر آ رہے ہیں اور سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی نواز شریف کا علاج کیا اور وہی علاج کیا جو دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونا چاہیے لیکن آپ نے درخواست کی کہ ہم بیماری کی تشخیص کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن مناسب وقت کے باوجود وہ اب تک کسی پیشرف سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو کینسر نہیں، ان کا مرض قابل علاج ہے، ڈاکٹر طاہر شمسی

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے کہ آپ ایک سزا یافتہ فرد ہیں اور عدالت نے آپ کو علاج کرانے کے لیے ریلیف دیا تھا لیکن آپ علاج کرا ہی نہیں رہے اور اگر کرا رہے ہیں تو کچھ تحریری ثبوت ہمیں بھیج دیں کیونکہ آپ بظاہر بالکل ٹھیک لگ رہے ہیں۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہوا خوری کے لیے انسان بہت ساری جگہیں جا سکتا ہے لیکن ایک بندے کی حالت تشویشناک اور اسٹروک کا خطرہ بتایا جا رہا تھا اور اب وہ ریسٹورنٹ پہنچ گئے تو کیا مذکورہ ریسٹورنٹ میں آکسیجن کا خاص انتظام تھا؟۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے سبب تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

مقامی سطح پر مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: نوازشریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

تاہم اب ان کی ریسٹورنٹ کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔