رانا ثنااللہ کی ضمانت پر رہائی سپریم کورٹ میں چیلنج

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے گزشتہ سال یکم جولائی کو گرفتار کیا تھا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے گزشتہ سال یکم جولائی کو گرفتار کیا تھا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اینٹی نارکوٹکس فورس نے سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ کی منشیات کیس میں ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

سپریم کورٹ میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ رانا ثنااللہ کو ضمانت دینے کا فیصلہ درست نہیں اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے گرفتار کرلیا

اینٹی نارکوٹکس فورس نے درخواست میں رانا ثنااللہ کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، رانا ثنااللہ کی ضمانت منسوخ کی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں واپس انسداد منشیات فورس کے حوالے کیا جائے۔

رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئیں جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

کنٹرول آف نارکوٹس سبسٹینس ایکٹ 1997 کی دفعہ 9سی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید یا 14سال تک جیل کی سزا کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات کیس: رانا ثنااللہ کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

کنٹرول آف نارکوٹس سبسٹینس کی خصوصی عدالت نے 20 ستمبر کو رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ان کے ہمراہ گرفتار کیے گئے دیگر پانچ مشتبہ افراد کو رہا کردیا تھا۔

اس کے بعد 9 نومبر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی دوسری درخواست بھی مذکورہ عدالت نے مسترد کردی تھی۔

مزید پڑھیں: 'رانا ثنااللہ قرآن پاک کو اپنی بےگناہی کے لیے استعمال نہ کریں'

2 اکتوبر کو سابق وزیر قانون نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی البتہ بعد میں وہ اس درخواست سے دستبردار ہو گئے تھے تاکہ بعد میں دوبارہ درخواست دائر کر سکیں۔

دسمبر میں رانا ثنااللہ نے دوبارہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی اور 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے 20 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔