عراق: حکومت مخالف مظاہرے، 2 روز میں 10 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

عراق میں رواں ہفتے ایک مرتبہ پھر احتجاج میں شدت آگئی تھی—فائل/فوٹو:اے ایف پی
عراق میں رواں ہفتے ایک مرتبہ پھر احتجاج میں شدت آگئی تھی—فائل/فوٹو:اے ایف پی

عراق میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران گزشتہ 2 دنوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں کم ازکم 10 افراد مارے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو دارالحکومت بغداد، دیالا، بصرہ اور کربلا میں مارا گیا اور اسی دوران 138 افراد زخمی ہوگئے۔

انسانی حقوق کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘متعدد مظاہرین نے سڑکوں پررکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں اور سرکاری دفاتر کے قریب ٹائروں کو آگ لگا کر حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے جس سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوگیا’۔

بغداد میں احتجاج میں شریک ایک شہری نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارا احتجاج پرامن ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت مستعفی ہو اور ایک ایسے وزیراعظم کو منتخب کیا جائے جس کا کسی جماعت سے تعلق نہ ہو’۔

مزید پڑھیں:عراق میں مظاہرے پھر شدت اختیار کرگئے، 3 افراد ہلاک

رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر 2019 کو شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 470 سے تجاوز کرگئی ہے۔

خیال رہے کہ مظاہرین کی جانب سے حکومت کو اصلاحات کے دی گئی ڈیڈ لائن کے اختتام سے ایک روز قبل ہی 20 جنوری کو احتجاج شروع کیا گیا تھا اور احتجاج کے پہلے ہی روز پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس کے شیل لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

مظاہرین نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ان کی تحریک کو امریکا اور ایران کے درمیان خطے میں جاری کشیدگی کی نذر کیا جائے گا جو 3 جنوری کو امریکی فضائی حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو فضائی حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پیراملٹری کمانڈر سمیت 9 افراد کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور عراق میں بھی امریکا مخالف مظاہرے کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:عراق: حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی

بعد ازاں ایران نے امریکی حملے کا جواب دیتے ہوئے عراق میں قائم امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ درجنوں امریکی فوجی مارے گئے جبکہ امریکا نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

عراق میں یکم اکتوبر کو شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ نئے حکمران کے انتخاب تک وہ قائم وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔