بات مان لیجیے، وزیرِاعظم حکمرانی کے لیے موزوں نہیں ہیں!

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

حکومت کو ہلا کر رکھ دینے میں مہنگائی کا کوئی ثانی نہیں۔ مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس حکومت کے دوران یہ نہ تو پہلا ایسا موقع ہے نہ ہی آخری۔

گزشتہ برس تقریباً اسی ماہ و تاریخ کے آس پاس ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں، جس کی وجہ 2018ء کے آخری دن پر لیا گیا ایک فیصلہ تھا۔

اس وقت شائع ہونے والی خبروں کے مطابق کہیں کہیں ادویات کی قیمتوں میں 500 فیصد تک اضافہ بتایا گیا تھا۔ ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر ہونے والی شدید تنقید پر ضابطہ لانے کے لیے حکومت سرگرم ہوگئی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے افسران نے پارلیمانی کمیٹیوں کو بتایا کہ ادویات ساز کمپنیوں نے 2 نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد اپنی مجاز سے بڑھ کر قیمتوں میں اضافہ کیا۔

اپریل کے آتے آتے وزیرِ صحت عامر محمود کیانی نے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے اس پورے معاملے کو اپنی غلطی قرار دے دیا اور پھر 23 اپریل تک وزیرِاعظم نے عامر محمود کیانی کو عہدے سے فارغ کردیا۔ انہوں نے صحت کے عالمی ادارے سے منسلک معزز افسر ظفر مرزا کو اپنا معاونِ خصوصی برائے صحت مقرر کیا۔

ظفر مرزا نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی تقرری کے دن وزیرِاعظم نے انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اندر ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کہا۔ یہ اپریل 2019ء کی بات ہے، مگر دیر ہوچکی تھی۔ جن بوتل سے باہر آچکا تھا اور ظفر مرزا نے چند اقدامات تو اٹھائے مگر تب سے لے اب تک وہ قیمتوں میں حقیقی معنوں میں کمی لانے کی کوششوں میں ہی مصروف ہیں۔

ابھی حال ہی جنوری کی ابتدا میں وہ ٹی وی شو میں گفتگو کے دوران ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی لانے کے وعدے کو دہراتے ہوئے نظر آئے۔ جبکہ گزشتہ برس 25 دسمبر کو کابینہ ڈریپ کے ذریعے 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کا حکم دینے جیسے فیصلے لیتے ہوئے دکھائی دی۔ مگر میڈیا کے چند حلقوں کے مطابق گزشتہ برس کی ابتدا میں نوٹیفکیشن کے ذریعے قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے 40 سالہ ریکارڈ توڑ دیا تھا۔

حکومت نے اپنے دفاع میں یہ کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کیے تھے۔ تاہم اس دعوے سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ شدید عوامی ردِعمل کے بعد انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کو کیسے ممکن بنایا۔ حکومتی مؤقف سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کس طرح کئی ادویات کی قیمتوں میں مجازِ حد سے کہیں زیادہ آگے بڑھ کر اضافہ کیا گیا۔

میرے خیال میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ناتجربے کاری کے دن تھے، جن میں نئی نویلی حکومت کام سیکھتی ہے، اور اس دوران انہوں نے لاپروائی کے ساتھ ایک بڑے ہی نازک کام کو انجام دیا اور جن کو بوتل سے آنے دیا اور اس وقت کے بعد سے سوالات کا دفاع کرتے کرتے مہینوں گزار دیے گئے۔

بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں غربا کو اس وقت شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب زندگی بچانے والی اہم ترین ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا۔

مگر سلسلہ یہیں نہیں رُکتا۔ موسمِ گرما کے دوران گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس بار حکومت نے اس کا الزام آئی ایم ایف اور گزشتہ حکومت کے چھوڑے گئے گردشی قرضوں کے بوجھ پر دھر دیا۔ مگر حکومت نے قیمتوں میں زبردست اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے ریڈار پر نمودار ہوئے بغیر خاموشی سے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ریونیو حاصل کرلیا۔

جولائی میں گیس کے نرخوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا، ستمبر میں ایک بار پھر نرخوں میں اضافہ کیا گیا اور پھر دسمبر میں مزید اضافے کی درخواست کی گئی جسے حالیہ گندم کی قیمتوں پر ہونے والے شور کے پیشِ نظر فی الحال ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔

لہٰذا اب جیسے ہی یہ شور تھمنا شروع ہوگا تو مخصوص درجے کے صارفین گیس کے نرخوں میں 221 فیصد تک اضافے کا سامنا کرسکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافہ ’full-cost recovery‘ کے فارمولے کے تحت کیا گیا ہے، دراصل یہ فارمولہ یہ بات کہنے کا ایک بڑا ہی خوبصورت اور تکنیکی طریقہ ہے جو بجلی ضائع یا چوری ہوتی ہے اس کی قیمت بھی پہلے سے ہی بل ادا کرنے والے صارفین سے وصول کی جائے، یعنی مجھ سے اور آپ سے۔

یہ حکومت انتظامی سطح پر متعین قیمتوں کے معاملات کو نہیں سنبھال سکتی۔ پاکستان میں بہت سی جگہوں پر قیمتوں کا تعین حکومت خود کرتی ہے، جیسے گندم، بجلی اور گیس۔

تاہم بہت سی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں قیمتوں کا تعین ریگولیٹری ادارے کرتے ہیں، جیسے ادوایات۔ دونوں حالات میں حکومت لابنگ کے طوفان کے بیچوں بیچ بیٹھ چکی ہے، اور لابنگ کرنے والے کچھ زیادہ ہی ہوشیار ثابت ہوسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ادویات ساز کمپنیاں برسوں سے قیمتوں میں اضافے کے لیے لابنگ میں مصروف رہی لیکن ہر نئی آنے والی حکومت جانتی تھی کہ اس کے کیا نتائج نکلیں گے، جس وجہ سے انہوں نے درخواست کو منظوری دینے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کو ترجیح دی۔

ٹھیک جس طرح گیس فراہم کرنے والے سرکاری ادارے حکومت کے پاس سرمایہ لگانے، انفرااسٹرکچر کی تعمیر، مختلف طریقوں سے چوری یا ضائع کو کم سے کم کرنے کے لیے دیے گئے اہداف میں نرمی لانے اور نرخوں میں اضافہ کیا جائے۔

اب حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ اس لابنگ کا گہرائی سے جائزہ لے اور یہ فیصلہ کرے کہ کن گزارشات کو تسلیم اور کن کو مسترد کردینا ہے۔ اس کام کے لیے حاضر دماغی درکار ہوتی ہے۔ نجی شعبے کی شارکس یا سرکاری بیوروکریسی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے تجربہ چاہیے ہوتا ہے، کیونکہ اگر انہیں تھوڑا بھی موقع مل جائے تو یہ اپنی مراعات، سہولیات اور بعد از ریٹائرمنٹ حاصل ہونے والے فوائد کے اخراجات کا بوجھ بھی ‘full-cost recovery’ کی صورت صارفین کے کندھوں پر ڈال دیں گے۔

گندم کے بحران کی نشانیاں کئی ہفتے پہلے ہی نظر آنا شروع ہوگئی تھیں۔ گزشتہ گرمیوں میں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ ہمارے پاس پورے سال کی کھپت کے مقابلے میں گندم کا کم ذخیرہ ہے۔ مگر اس وقت یوں لگا کہ کسی کو اس بات کی پرواہ ہی نہیں ہے کیونکہ پرواہ کرنا کسی کا بھی کام نہیں ہے۔

حکومت کسی بھی مسئلے پر صرف اس وقت ہی بیدار ہوتی ہے جب وہ شدید بحران کی صورت اختیار کرچکا ہوتا ہے۔ حکومت کا یہی رویہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے موقعے پر دیکھنے کو ملا۔ حکومت نے گندم بحران کا ذمہ دار پہلے حکومتِ سندھ، اس کے بعد منافع خوروں کو ٹھہریا اور اب وہ کچھ ایسی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ’کسی ایک آدمی کا نام بتا دیجیئے، جو روٹی نہ ملنے سے مر گیا ہو۔‘

جب معاملات کی ٹھیک سے دیکھ بھال نہ کی جاسکے تو یہی سب ہوتا ہے۔ جب وزیرِاعظم اپنے اقتدار کے دکھاوے، فیتے کاٹنے، بڑے بڑے وعدے کرنے میں مصروف ہو اور ملک واضح عزائم و اصولوں سے عاری ہو تو بیوروکریسی یا پھر نجی شعبوں کے خصوصی مفادات ملک اور اس کی دولت کو دیمک کی طرح چاٹ لیتے ہیں۔

نقصان ہونے کے بعد ہی وہ سخت احکامات جاری کرتا ہو اور فیصلہ واپس لینے کے لیے کہتا ہو۔ یہ وزیراعظم حکمرانی کے لیے موزوں نہیں ہے، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اور کتنے ثبوت درکار ہیں؟

یہ مضمون 23 جنوری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔