ایف اے ٹی ایف: عالمی برادری کو پاکستان کی کاوشوں کو تسلیم کرنا چاہیے، چین

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا—تصویر:فیس بک
گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا—تصویر:فیس بک

بیجنگ: ملک میں انسداد دہشت گردی کے مالی تعاون کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی نمایاں پیش رفت پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی عزم اور متحرک کوششوں کو عالمی برادری کو تسلیم کرنا چاہیے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوینگ نے یہ تبصرہ پاکستان کی نیشنل ایکشن پلان رپورٹ پر کیا جو جوائنٹ گروپ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی چین کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں زیرِ غور آئی۔

وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے عالمی منی لانڈرنگ واچ ڈاگ کے 3 روزہ اجلاس میں ملک کی عملدرآمد رپورٹ پیش کی جو 21 جنوری سے شروع ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے، چین

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے واضح پیش رفت کے ساتھ اپنا ملکی انسداد مالیاتی دہشت گردی نظام مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت سے موثر انداز میں نمٹنے اور انسداد مالیاتی دہشت گردی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کی تعمیری حمایت کی جائے گی۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ چین ایف اے ٹی ایف کے صدر اور ایشیا پیسفک جوائنٹ گروپ کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے چین بامقصد، تعمیری اور منصفانہ رویے کو برقرار رکھے گا اور متعلقہ بات چیت میں حصہ لے گا۔

گینگ شوینگ کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت سے لڑنے کے لیے ایک اہم عالمی تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔

مزید پڑھیں:ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور پاکستان کی معیشت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد اور عزم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت سے لڑنے کے لیے ممالک کی مدد کرنا ہے تا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کا استحصال ہونے سے روکا جائے۔

واضح رہے کہ بیجنگ کے اس اجلاس میں شریک پاکستانی وفد میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)، وزارت خارجہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کسٹمز، وزارت داخلہ اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے نمائندے شامل تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پیرس میں منعقدہ ایف اے ٹی ایف اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے گرے فہرست میں رکھا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے بیان کے مطابق 'اسلام آباد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نام ہٹانے کے لیے پاکستان کا امریکا پر زور

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔