سابق وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ سے اربوں کے اخراجات وصول کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا — فوٹو: پی آئی ڈی
وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا — فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے سابق وزرائے اعظم، صدر اور وزرائے اعلیٰ سے قومی خزانے سے غیر قانونی طور پر خرچ کیے گئے اربوں روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران مراد سعید نے کہا کہ 'کچھ عرصہ قبل کابینہ کو سابق وزرائے اعظم اور صدر کے اخراجات کے حوالے سے پریزنٹیشن دی گئی تھی کہ پچھلے 10 سالوں میں 24 ہزار ارب روپے کا قرض لیا گیا لیکن یہ قرض کا پیسہ قوم پرنہیں لگایا گیا۔'

انہوں نے کہا کہ 'سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ملتان اور لاہور میں 5 کیمپ آفسز تھے جن کی سیکیورٹی، انٹرٹینمنٹ، بچوں کے اخراجات پاکستانی قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیے گئے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'سابق صدر آصف علی زرادری کے تین کیمپ آفسز سمیت مجموعی طور پر مختلف امور پر 316 کروڑ 41 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور انہوں نے 59 غیر ملکی دورے کیے، آصف علی زرداری کی سیکیورٹی پر پانچ سال تک کم سے کم 790 اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار 722 اہلکار مامور تھے جس پر 163 ارب 71 کروڑ 37 لاکھ خرچ ہوئے۔'

مراد سعید نے کہا کہ 'شریف برادران نے لاہور میں 5 کیمپ آفسز رکھے، جاتی امرا کی سیکیورٹی پر 214 کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار روپے خرچ ہوئے، جاتی امرا میں ذاتی گھر پر 27 کروڑ کی باڑ لگائی گئی، شریف خاندان کی سیکیورٹی پر 2 ہزار 753 اہلکار تعینات تھے جبکہ ان کے بچوں اور داماد کے نام پر ایک ایک اسکواڈ ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔'

یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ کیلئے مشتاق مہر کا نام وفاقی کابینہ نے واپس کردیا، معاون خصوصی

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے لیے خصوصی طیارہ گیا جو وہاں پر انتظار کے بعد واپس پاکستان آیا اور پھر انہیں لینے کے لیے لندن گیا، خصوصی جہاز کے ایک وزٹ پر 34 کروڑ خرچ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعلی بنے تو 130 کروڑ کا نیا ہیلی کاپٹر خریدا، وی وی آئی پی پرواز کے لیے وزیراعظم کے جہاز کو شہباز شریف نے 556 دفعہ استعمال کیا جبکہ شریف خاندان کے بچوں کو رائیونڈ سے اسلام آباد اور مری لایا اور واپس لے جایا گیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نواز شریف پچھلے چار سال حکومت کرنے کے بعد نااہل ہوئے تو ان کے بھائی نے بطور وزیر اعلیٰ ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے رائیونڈ کو دوبارہ کیمپ آفس قرار دے دیا، شہباز شریف نے 872 کروڑ 69 لاکھ روپے کی عیاشی کی جبکہ نواز شریف نے لندن کے 25 نجی دورے کیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم ہاﺅس کو استعمال نہیں کیا اور اپنے اس وعدے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، پر کاربند ہیں، عمران خان نے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک کی مرمت، گھر کی فنسنگ ذاتی خرچ سے کی اور امریکا سمیت ہر فورم میں شرکت پر کمرشل فلائٹ کا استعمال کر کے بھاری بچت کی۔

مراد سعید نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قومی خزانے سے استعمال ہونے والی یہ رقوم ایک ماہ میں وصول کی جائیں گی، ایک ماہ میں یہ پیسہ حکومت کو ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی اور مستقبل کے لیے ہم نے کیمپ آفسز، انٹرٹینمنٹ اور پارٹی اجلاس کے اخراجات قوم کے پیسے سے ادا کرنے کا راستہ روکنے کے لیے رولز میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں کرپشن کے کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بجھوائے اور اب تک ایک ہزار 190 کروڑ کی وصولیاں کی گئی ہیں۔