کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے چینی دیہات کے حیران کن اقدامات

28 جنوری 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز
— فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز

وبا کی طرح پھیلنے والے 2019 ناول کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے وسطی چین کے مختلف دیہات کے رہائشیوں نے بہت زیادہ حیران کن اقدامات کیے ہیں۔

اسکائی نیوز نے یاسی تصاویر جاری کی ہیں جن میں صوبہ ہوبئی کے 6 دیہات خود کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ کورونا وائرس سے خود کو بچاسکیں جو اسی صوبے کے صدر مقام ووہان سے پھیلنا شروع ہوا۔

اسکائی نیوز نے ووہان سے 600 میل دور واقع ان دیہات کا دورہ کیا اور کچھ جگہوں پر ہاتھ سے لکھے بینرز میں خبردار کیا گیا تھا 'کسی اجنبی کو اندر آنے کی اجازت نہیں'۔

ایک مقامی رہائشی نے اسکائی نیوز کو بتایا 'ہمارا گاﺅں یہ دیوار مرکزی شاہراہ پر تعمیر کررہا ہے ، تاکہ باہر کے لوگوں کو اپنے گاﺅں میں داخل ہونے سے روک سکیں'۔

ایک جگہ تو گاﺅں کے داخلی راستے پر ایک کیبن میں چیک پوائنٹ بنایا گیا ہے اور وہاں کے رہائشی یان یانگ کا کہنا تھا 'ایسا وبا کی وجہ سے کیا گیا، میں نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ کب تک برقرار رہ سکتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ یہ وبا کیسے پھیل رہی ہے، اب تک اسے روکنے کی پالیسیاں سامنے نہیں آسکیں'۔

اس نے مزید بتایا 'میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں فکرمند نہیں، مگر ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہا'۔

ویسے تو چینی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو اسکریننگ کرکے وائرس کو پکڑ سکیں مگر ان دیہات میں دیواریں اور رکاوٹیں حکومتی اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔

فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز
فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز

چینی سوشل میڈیا پر بھی منگل کو ایک تصویر گردش کرتی رہی جس میں لوگ ایک مین روڈ پر دیوار تعمیر کررہے ہیں، تاہم آزادانہ ذرائع سے تصویر کی صداقت کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

چین کے شہر ووہان میں پہلی بار نمودار ہونے والے وائرس سے اب تک سو سے زائد ہلاکتیں اور ساڑھے 4 ہزار سے زائد افراد بیمار ہوچکے ہیں۔

یہ وائرس جسے 2019 ناول کورونا یا این کوو کا نام دیا گیا ہے، کے بارے میں سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے 31 دسمبر کو بتایا تھا اور جب سے اس کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز
فوٹو بشکریہ اسکائی نیوز

چین کے سائنسدانوں نے اسے وائرس کے ایک خاندان کورونا وائرسز سے جوڑا ہے جس میں 2000 کی دہائی کا خطرناک سارس وائرس بھی شامل ہے۔