برطانوی پولیس افسر کے قتل میں گرفتار پاکستانی کا ملک میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2020

ای میل

ملزم کے وکیل نے کہا کہ اگلی سماعت 10 دن میں متوقع ہے—فوٹو: اے پی
ملزم کے وکیل نے کہا کہ اگلی سماعت 10 دن میں متوقع ہے—فوٹو: اے پی

برطانوی خاتون پولیس افسر کے قتل کے الزام میں گرفتار 71 سالہ پاکستانی نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں برطانیہ کے حوالے نہ کیا جائے اور مقدمہ مقامی عدالت میں چلایا جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے رواں ماہ کے اوائل میں ملزم پیرن دتہ خان کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی مغوی پولیس افسر کے افغانستان میں قتل کی اطلاعات

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق پیرن دتہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2005 میں برطانیہ میں ایک برطانوی خاتون پولیس افسر پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا تھا۔

اسلام آباد کی عدالت میں برطانیہ کو حوالگی کی درخواست پر دوسری سماعت کے دوران ملزم کو پیش کیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری پاکستانی حکام اور برطانوی جاسوسوں کے مابین قریبی تعاون کے باعث عمل میں آئی۔

ملزم کے وکیل راجا غنیم نے کہا کہ 'توقع ہے کہ عدالت برطانیہ کو حوالگی کی درخواست پر کسی حتمی فیصلے پر غور کرنے سے پہلے اس معاملے میں پاکستانی حکام سے تحقیقات کا جائزہ لے گی۔'

انہوں نے مزید کہا کہ اگلی سماعت 10 دن میں متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران فاروق قتل کیس: برطانوی پولیس نے انتہائی اہم شواہد جمع کرادیے

38 سالہ برطانوی خاتون پولیس افسر شیرون بیشینیواسکی کی ہلاکت سے متعلق سوالات پر زیر حراست ملزم نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

خیال رہے کہ 2005 میں بریڈ فورڈ میں ایک ٹریول ایجنسی کے باہر فائرنگ سے خاتون پولیس افسر ہلاک ہوگئی تھیں۔

پولیس افسر کو ٹریول ایجنسی میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی واردات سے متعلق مطلع کیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والی خاتون پولیس افسر تین بچوں کی ماں تھی۔

خاتون پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد 6 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن پیرن دتہ خان فرار ہوگیا۔

جس کے بارے میں برطانوی پولیس کو شبہ تھا کہ وہ مسلح گروہ کا کارندہ تھا۔

مزید پڑھیں: عمران فاروق قتل کیس: انسداد دہشتگردی عدالت میں اہم شواہد جمع

سن 2016 میں برطانوی پولیس نے پیرن دتہ خان کی گرفتاری میں تعاون کرنے پر 20 ہزار برطانوی پاؤنڈ انعام رکھا۔

ملزم کے وکیل راجا غنیم نے بتایا کہ پاکستان میں تحقیقات کے دوران ان کا موکل بے گناہ پایا گیا لیکن انہیں پھنسایا جارہا ہے۔

راجا غنیم نے کہا کہ 'پاکستانی تفتیش کاروں نے 2005 میں برطانیہ میں ہونے والے قتل سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل نہیں کی'۔

ان کا کہنا تھا کہ پیرن دتہ خان پر محض شبہ ہے اور وہ پاکستان میں مقدمہ چلانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: 'داعش خراسان کے امیر' کے ہلاک ہونے کی اطلاعات

ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ 'مقدمے کی سماعت پاکستان میں ہونی چاہیے اور پیرن دتہ خان برطانوی پولیس کے کسی بھی سوال کا جواب ویڈیو لنک کے ذریعے دے سکتے ہیں'۔