سپریم کورٹ کا نیب کیسز کے حل میں تاخیر پر اظہار تشویش

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ 5 احتساب عدالتوں میں کوئی پریزائڈنگ جج نہیں — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ 5 احتساب عدالتوں میں کوئی پریزائڈنگ جج نہیں — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مختلف احتساب عدالتوں میں ایک ہزار 226 ریفرنسز زیر التوا ہونے کی وجہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) کو درپیش گنجائش کے مسائل پر تشویش کا اظہار کردیا۔

عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ 5 احتساب عدالتیں ایسی ہیں جس میں کوئی پریزائیڈنگ جج تعینات نہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’نہ تو نیب میں کام کرنے والے تفتیشی افسران بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی پراسیکیوٹرز احتساب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی میں دلچسپی رکھتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے، سپریم کورٹ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالتوں میں فیصلہ سازی میں تاخیر کے حوالے سے لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ زیر التوا کیسز کو نمٹانا نیب کی سب سے کم ترجیح ہے۔

اس سے قبل 8 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جسٹس مشیر عالم نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ٹرائل کورٹس میں ملزم پر مقدمے کی کارروائی میں تاخیر پر ازخود نوٹس لے کر ایک خصوصی بینچ بنایا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے نیب کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جس میں ٹرائلز میں تاخیر کی وجوہات، کتنی عدالتوں میں پریزائیڈنگ ججز کی کمی ہے اور ان آسامیوں کو پر کیوں نہیں کیا گیا اس کی وجہ پر روشنی ڈالی جائے‘۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا

قبل ازیں جمعرات کو ہونے والی سماعت میں پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر نے عدالت کو بتایا تھا کہ نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور اس حوالے سے ریجنل دفاتر کو خطوط بھی ارسال کردیے گئے ہیں جس میں کہا گیا کہ وہ بذات خود کارروائی کی رفتار دیکھ رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 6 ماہ کے عرصے میں مختلف عدالتوں میں زیر التوا ایک ہزار 226 ریفرنس نمٹائے جاسکتے ہیں بشرط یہ کہ تیزی سے کام کیا جائے اور اگر ایک کیس میں گواہان کی بڑی تعداد کو شامل کیا جائے گا تو معاملہ کبھی حل نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’نیب کو ریفرنسز میں گواہان کی تعداد کے بجائے گواہی کے معیار پر توجہ دینی چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے نیب کو پیشگی اطلاع کے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی

پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب بنیادی تبدیلیاں کرنے اور پورے تفتیشی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کے لیے پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی معاونت حاصل کرنے کے لیے اشتہار دینے پر کام کررہا ہے۔

از خود نوٹس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مختلف شہروں میں احتساب عدالتوں کے ججز کی 5 خالی آسامیوں پر تعیناتیاں کی جائیں۔