سپریم کورٹ نے نیب کو پیشگی اطلاع کے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2019

ای میل

قومی احتساب آرڈننس 1999 کے مطابق نیب ملزم کو پیشگی اطلاع دینے کا پابند نہیں، سپریم کورٹ— فائل فوٹو
قومی احتساب آرڈننس 1999 کے مطابق نیب ملزم کو پیشگی اطلاع دینے کا پابند نہیں، سپریم کورٹ— فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پیشگی اطلاع کے بغیر ملزم کو گرفتار کرنے کی اجازت دیتے ہوئے احتساب کے ادارے کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست نمٹادی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نیب کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب کا درخواست گزار کو گرفتار کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ نیب عدالتِ عالیہ کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کو ایک مؤثر قانون قرار دے دیا

جسٹس شیخ عظمت سعید نے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کے دائرہ اختیار سے متعلق دائر درخواست کو نمٹادیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ نیب کسی بھی ملزم کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ہی گرفتار کر سکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے مطابق اگر نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہوں تو اسے گرفتاری کا مکمل اختیار ہے، ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ عدالت کو امید ہے کہ نیب اپنے ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں سپریم کورٹ نے اراکین اسمبلی کو قومی احتساب آرڈیننس 1999میں ترمیم پر غور کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا قانون ’کالا قانون‘ ہے، خواجہ سعد رفیق

گزشتہ برس ہی ستمبر میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے نیب آرڈیننس کو ایک موثر قانون قرار دیا تھا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نیب آرڈیننس اس وقت لاگو ہے، اس کو نہ تو ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی گئی۔

لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس (ایل ایف جے) نے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے نیب آرڈیننس کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وقتاً فوقتاً نیب کے کردار کو ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے، سپریم کورٹ

گزشتہ برس دسمبر میں قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے نیب قانون کو ’کالا قانون‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے بھی نیب کے قانون کو ڈکٹیٹر کا قانون قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری غلطی تھی کہ ہم اس قانون کو گزشتہ دورِ حکومت میں تبدیل نہیں کرواسکے تھے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ نیب کے اہلکار چھاپے کے دوران زبردستی اسپیکر قومی سندھ اسمبلی کے گھر پر رہے جہاں انہوں نے خواتین کے ساتھ بھی بد تمیزی کی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین نیب سے مطالبہ کیا تھا کہ نیب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ورنہ ہم نیب کے خلاف ایکشن لیں گے۔