سینیٹ کمیٹی: زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی ترمیم منظور

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

سینیٹر کرشنا کماری کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کا اقلیتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا — فائل فوٹو: اے ایف پی
سینیٹر کرشنا کماری کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کا اقلیتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا — فائل فوٹو: اے ایف پی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھانے سے متعلق ترمیم کی منظوری دے دی جبکہ لاپتہ بچوں کی بازیابی اور تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا جس میں زینب الرٹ بل اور معذور افراد سے متعلق بل کا جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بتایا کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب بل میں ترامیم پر رضا مندی ظاہر کی ہے، کوشش ہوگی کہ دونوں بل غور کے بعد منظور کرلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کے اندر کچھ خامیوں کو ٹھیک کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ مذکورہ بل اسلام آباد تک محدود ہو یا پورے ملک تک دائرہ کار بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:بچوں کا اغوا، ریپ روکنے کیلئے 'زینب الرٹ بل' کا ابتدائی مسودہ منظور

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ بچے کے لاپتہ ہونے کے بعد فرسٹ انفارمیشن (ایف آئی آر) کے اندراج میں تاخیر ہوتی ہے اور پولیس والوں کو یہ پتہ تک نہیں ہوتا کہ ایف آئی آر کیسے درج کی جائے۔

انہوں نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ ترمیم کرلیں تو پورے ملک میں ایک تبدیلی آجائے گی۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی کے کیسز خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں اور اس مقصد کے لیے خصوصی عدالتیں پورے ملک میں قائم کی جائیں جو 3ماہ کے اندر کیسز نمٹانے کی پابند ہوں۔

بعدازاں کمیٹی نے زینب الرٹ بل کا دائرہ کار ملک بھر تک بڑھانے کی ترمیم منظور کرلی، واضح رہے کہ اس سے قبل زینب الرٹ بل کا اطلاق صرف اسلام آباد تک محدود تھا۔

مزید پڑھیں: زینب الرٹ بل قومی اسمبلی سے منظور

بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سینیٹر قرۃالعین مری نے یہ کہہ کر ترمیم کی مخالفت کی کہ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانا اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری جانب کمیٹی میں شامل اقلیتی رکن کرشنا کماری نے زینب الرٹ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں غیر مسلم لڑکیاں اغوا ہوجاتی ہیں۔

کرشنا کماری کا کہنا تھا کہ کچھ غیر مسلم لڑکیاں غائب ہوجاتی ہیں اور ان کی اچانک ویڈیوز سامنے آجاتی ہیں، جس میں وہ لڑکیاں پسند کی شادی کا بیان دیتی ہیں اور نکاح نامے کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔

سینیٹر کرشنا کماری نے کہا کہ زبردستی مذہب تبدیل کروانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، سندھ میں 16سال کی بچی لاپتہ ہوئی اور کہا گیا اس نے مذہب تبدیل کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیاری زینب، اِس بار تو میں رو بھی نہیں سکا

ان کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کا اقلیتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، زبردستی مذہب تبدیلی کیا جاتا ہے اور پھر کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں زینب الرٹ بل سے لاپتہ بچے کی بازیابی اور تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا گیا۔

کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ زینب بل کا کام بچوں کو بازیاب کرنا یا تحقیقات کرنا نہیں بلکہ زینب الرٹ بل کے تحت صرف رابطہ اور سہولت فراہم کی جا سکے گی اور بل کا کام بچے سے متعلق اطلاع ملتے ہی متعلقہ اداروں کو الرٹ کرنا اور دستاویزات اکٹھا کرنا ہوگا۔

اجلاس میں ترمیم منظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ تحقیقات کرنا اور بچوں کو بازیاب کرنا پولیس کا کام ہے، پولیس اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر کا اندراج کرے گی اور بل کے تحت پولیس 14روز کے اندر چالان پیش کرنے کی پابند ہوگی، پولیس بچے سے متعلق والدین کو پیش رفت سے آگاہ کرنے کی بھی پابند ہوگی۔

ترمیم میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس افسر کے خلاف کارروائی ہوگی اور متعلقہ پولیس افسر کو دو برس تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، سزا کی صورت میں مقدمہ درج نہ کرنے والے افسر کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔

زینب الرٹ بل

ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی قصور کی کمسن زینب انصاری کی لاش کے ملنے کے ٹھیک 2 سال بعد رواں برس 10 جنوری کو قومی اسمبلی نے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019 متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

مذکورہ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے جون 2019 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

منظور کردہ بل کے مطابق 'بچوں کے خلاف جرائم پر عمر قید، کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال سزا دی جاسکے گی جبکہ 10 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا'۔

علاوہ ازیں لاپتہ بچوں کی رپورٹ کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی اور 18 سال سے کم عمر بچوں کا اغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لیے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایجنسی بھی قائم کی جائے گی۔

بل میں کہا گیا تھا کہ 'جو افسر بچے کے خلاف جرائم پر دو گھنٹے میں ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی'۔

بل کی منظوری کے وقت کہا گیا تھا کہ قانون صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاگو ہوگا تاہم آج سینیٹ قائمہ کمیٹی نے اس کا دائرہ کار پورے ملک تک وسیع کرنے کی منظوری دے دی۔