صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی کے واقعے پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر پولیس کی فائرنگ کے بعد شہریوں کی جانب سے مزید احتجاج اور توڑ پھوڑ کیا گیا۔

عمرے کی ادائیگی کے بعد جدہ سے اسلام آباد پہنچنے پر کمسن بچی کے والد محمد امین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہواہے، پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا لیکن دوستوں نے ہمارا ساتھ دیا اور ہمیں انصاف چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں ملزمان کی شناخت بھی ہوگئی لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ زینب ہونہار بچی تھی، اسے سارے کلمے یاد تھے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ مصروف ترین بازار سے وہ کیسے اغوا ہوگئی۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران بچی کے والد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف دلانے کی اپیل کی۔

اس سے قبل والد کی غیر موجودگی میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی ) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بچی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

بعدازاں بچی کی تدفین قصور کے مقامی زامل قبرستان میں ہوئی۔

واضح رہے کہ قصور میں 6 سالہ زینب کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کیا اور ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا۔

اس موقع پر مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی، اس دوران مبینہ طور پر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہوگئے، جس کے بعد کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے رینجرز طلب کرلی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش ملی تھی، جسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد قصور کی فضا سوگوار ہے، ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرکے فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی میں بچی ریپ کے بعد قتل، 2 ملزمان گرفتار

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ملزم کا خاکہ — فوٹو، ڈان نیوز
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ملزم کا خاکہ — فوٹو، ڈان نیوز

خیال رہے کہ چھ روز قبل 6 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا، جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔

اس حوالے سے ابتدائی طور پر پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ بچی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم پولیس اس واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔

یاد رہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایک سال میں اس طرح کے 11 واقعات رونما ہوچکے ہیں، جن میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان تھیں لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

وزیر اعلیٰ پنجاب نے قصور میں کمسن بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔

انہوں نے اس حوالے سے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب پولیس سے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے مقتول بچی کے لواحقین سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے اور وہ اس کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 ماہ میں 10 کم سن بچوں کا ریپ اور قتل

انھوں نے کہا کہ معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ’ڈی پی او‘ قصور کو ’او ایس ڈی‘ بنادیا۔

انہوں نے قصور واقعے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کے بھی احکامات جاری کیے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل (آئی جی) انویسٹی گیشن ابوبکر خدابخش ہوں گے، جبکہ ٹیم اپنی رپورٹ 24 گھنٹے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کرے گی۔

علاوہ ازیں وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے اور اس پر لوگوں کا مشتعل ہونا فطری عمل ہے لیکن عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔

ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد حاصل کی گئی ہے اور ملزم جلد گرفتار کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی سی وی فوٹیج لگتا ہے کہ بچی ملزم کو جانتی تھی اور یہ شخص متاثرہ خاندان کا قریبی شخص معلوم ہوتا ہے۔

وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو 8 سے 10 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

آرمی چیف کی مذمت

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قصور میں کمسن بچی کے بے رحمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری کے لیے فوج کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے کمسن زینب کے والدین کی اپیل پر پاک فوج کو ہدایت کی ہے کہ مجرموں کو گرفتار کر نے کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے، تاکہ مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ٹویٹ میں کہا گیا کہ 'چیف آف آرمی اسٹاف معصوم زینب کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'متاثرہ والدین کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف سے کی گئی اپیل کے جواب میں ملزمان کی گرفتاری اور ان انھیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے سول انتظامیہ سے بھرپور تعاون کرنے کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں'۔

چیف جسٹس کا نوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے 6 سالہ زینب کے قتل کے واقعے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب لی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بچی کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے حکم دیا کہ سیشن جج قصور اور ضلع کے پولیس افسران اس واقعے کی رپورٹ فوری طور لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائیں۔

سینیٹ کمیٹی کا نوٹس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی نے پنجاب پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واقعے رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی کے چیئرمین رحمٰن ملک نے کہا واقعہ انتہائی افسوس ناک اور ناقابل برداشت ہے۔

زینب کا قتل پنجاب پولیس بطور چیلینج قبول کرکے مجرموں کو جلد گرفتار کرے اور اس حوالے سے 5 دنوں میں کمیٹی کو رپورٹ جمع کرائے۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے، انسانوں کی شکل میں ان درندوں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

دریں اثناء قصور واقعہ پر جماعت اسلامی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی۔

تحریک التوا میں کہا گیا کہ حکومتی مشینری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اغوا ہونے والی زینب کو بازیاب کرانے میں ناکام ہوئے، جس کے بعد اس قسم کا واقعہ پیش آیا۔

تحریک التوا میں کہا گیا کہ قصور میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے افسوسناک واقعات پیش آچکے ہیں۔

ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے: آر پی او

ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ذوالفقار نے اس واقعے کے حوالے سے بتایا کہ بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بچی کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں نے کیس میں کافی مدد فراہم کی ہے اور ان کی مدد سے سی سی فوٹیجز بھی حاصل کی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے پر ہر شخص سوگوار ہے، انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے اس بچی کے قتل میں 2 افراد ملوث ہوں تاہم بہت جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

واقعے پر مختلف شخصیات کا رد عمل

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی قصور کے واقعے پر مذمت کرتے ہوئے رد عمل کا اظہار کیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ایک بار پھر ظاہر ہوگیا کہ ہمارے بچے کتنے غیر محفوظ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ ایسا واقعہ ہوا ہو، ہمیں اپنے بچوں کا تحفظ یقینی بنانے اور مجرموں کو سزا دینے کےلیے تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مجھے امید ہے کہ قصور واقعے کے ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان کو قرار واقعی سزا دے کر ایک مثال قائم کی جائے گی۔

اس واقعے پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی رد عمل کا اظہار کیا، نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انھوں نے کہا قصور والوں کے ساتھ اس طرح کا واقعہ 12 ویں مرتبہ ہوا ہے، اللہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور اس دھرتی پر امن قائم فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ زینب کا قتل انسانیت کی تذلیل ہے، جس دور حکومت میں عوام کو تحفظ فراہم نہ ہو ایسی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

قصور واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیا۔

کرکٹر محمد حفیظ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت والد زینب کے والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں، حکومت کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینی چاہیے۔

فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے بھی اس واقعے پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یقین نہیں ہورہا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں بھی ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اللہ ’اس بچی کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے، بحیثیت والد اس طرح کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اور کھلاڑی شعیب ملک نے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم کیا بن گئے ہیں، میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔

اس واقعے پر جہاں ہر آنکھ آشک بار ہے وہی فنکاروں کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا۔

اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ 'یہ سب تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک ہم ان درندوں کو سزا نہیں دیں گے'۔

اداکار زاہد احمد نے کہا کہ 'کتنی شرمندگی کی بات ہے، مجھے ایسا لکھتے ہوئے بھی افسوس ہورہا ہے، ضلع حکومت کو سامنے آکر یہ اس مسئلے کا فائنل حل نکالنا چاہیے'۔

فخر عالم نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 'اپنی سیاسی جیت کا جشن منائیں اور دوسروں کی ہار پر خوشی منائیں، جمہوریت کی خاچر دی جانے والی قربانیوں کے دعوے کریں، کیوں کہ قصور میں 6 سالہ زینب کا ریپ ہوا، اسے قتل کیا گیا اور پھر کچرے میں پھینک دیا گیا، لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں، لوگوں کے مسائل کے بارے میں سوچتا ہی کون ہے؟'