سینیٹ اجلاس: اپوزیشن کا آئی ایم ایف سے مذاکرات سے متعلق آگاہ نہ کرنے پر شدید احتجاج

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

ایوان بالا میں ملک میں گندم بحران کے معاملے پر مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی — فائل فوٹو / اے پی پی
ایوان بالا میں ملک میں گندم بحران کے معاملے پر مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی — فائل فوٹو / اے پی پی

اپوزیشن نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات سے متعلق ایوان کو آگاہ نہ کرنے پر سینیٹ میں شدید احتجاج کیا مالیاتی فنڈ کے چین سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے خود مختاری پر وار قرار دے دیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت اور آئی ایم ایف مذاکرات پر بحث ہوئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے آئی ایم ایف کے چین سے متعلق بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آتے ہی عبدالرزاق داؤد کا بیان چھپا تھا کہ ایک سال کے لیے سی پیک کو پس پشت ڈالا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کو پارلیمنٹ کو نہیں بتایا گیا جبکہ مذاکرات میں فنڈ کے سامنے سی پیک کے منصوبے، چینی قرضے رکھے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکا کا 'بُرائی کا گٹھ جوڑ' نہیں چاہتا کہ خطے میں پاکستان اور چین کی دوستی بڑھے، امریکا کے دباؤ پر آئی ایم ایف سے شرائط ڈالی گئیں، آئی ایم ایف امریکا کی پراکسی ہے، وہ اس سے جو چاہے گا کروا لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف وفد کو یہ کہنے کی ہمت کیسی ہوئی کہ پاکستان، چین پر انحصار کو کم کرے؟ یہ ہماری خود مختاری پر وار ہے لیکن حکومت اس پر خاموش رہی۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان کی ’قابل ذکر پیش رفت‘ کا معترف، مذاکرات بے نتیجہ ختم

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری تھے، آئی ایم ایف وفد نے کہا کہ چین سے تعلقات آپ کے زیادہ ہیں ان سے تعلقات کم کر کے دوسرے ممالک کی جانب دیکھیں، دو دن اخبارات میں یہ خبر آتی رہی لیکن حکومت کی جانب سے ایک لفظ نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت آ گیا ہے کہ اب آئی ایم ایف ہماری خارجہ پالیسی بنائے گا، بھارت تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ہم ان منصوبوں پر کام کریں، آئی ایم ایف کون ہوتا ہے ہمیں بتانے والا کہ ہم چین سے کیسے تعلقات رکھیں، حکومت کو آج واضح طور پر بتانا ہوگا کہ اس نے آئی ایم ایف کی کونسی باتیں مانی ہیں۔

وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے مذاکرات سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا۔

اپوزیشن نے اعظم سواتی کے جواب پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں موجود نہیں تھے، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ خود ایوان میں آکر بیان دیں۔

اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

کورم ٹوٹنے کے باعث اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

گندم بحران کا معاملہ، مذمتی قرارداد منظور

قبل ازیں ایوان بالا میں ملک میں گندم بحران کے معاملے پر مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی اور آٹے کے بحران میں حکومت کی کوتاہی قبول کرتا ہوں، وزیر اعظم

اپوزیشن اراکین کی پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آٹا بحران نے غریب عوام کی کمر توڑدی ہے جبکہ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ اور نااہلی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی سے واضح ہوتی ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت، گندم بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ پیش کرے۔