مہنگائی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی نے اجلاس میں کہا کہ صوبوں کو چاہیے کہ وہ اس ذمہ داری کو قبول کریں — فائل فوٹو: اے پی پی
سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی نے اجلاس میں کہا کہ صوبوں کو چاہیے کہ وہ اس ذمہ داری کو قبول کریں — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے، نیشنل پرائز مونیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) نے موجودہ قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صوبائی حکومتوں کو قرار دیا ہے اور ان سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو کہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنے اجلاس میں مشاہدہ کیا کہ مارکیٹ میں اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں بدامنی پھیل رہی ہے، فنانس ڈویژن میں قیمتوں سے متعلق یہ لگاتار دوسرا اجلاس تھا۔

نوید کامران بلوچ نے اجلاس کو بتایا کہ 'یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ انحراف کے بعد قیمتوں پر قابو پانے کا کام صوبوں کے دائرہ کار میں آتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'صوبوں کو چاہیے کہ وہ اس ذمہ داری کو قبول کریں اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کوششیں کریں'۔

مزید پڑھیں: مہنگائی کی شرح جنوری کے مہینے میں 12 سال کی بلند ترین سطح پر آگئی

اجلاس میں صوبائی حکومتوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن، پاکستان کے ادارہ شماریات، وزارت تجارت و فوڈ سیکیورٹی، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، کسٹمز اور کابینہ ڈویژن کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں سیکریٹری خزانہ کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو عوام کو قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے رمضان کے دوران اضافی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر وفاقی حکومت سے کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ مدد کرنے کے لیے تیار ہوگی'۔

اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق صوبوں کو یہ معلومات دینا ہوں گی کہ ان کے خیال میں ضروری اشیا کے علاوہ کون سی چیزیں مہنگی ہوں گی اور وفاقی حکومت ان اشیا کی کمی سے نمٹنے میں کس طرح مدد کرسکتی ہے، ہر صوبائی حکومت وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی انتظامیہ کی رہنمائی بھی کرے گی کہ کس طرح بچت بازاروں کا نیٹ ورک عام آدمی پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

صوبوں سے کہا گیا کہ وہ ہر سطح اور ہر مرحلے پر ذخیرہ اندوزی کی جانچ کریں اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قانون کے تحت ضروری کارروائی کریں اور مقامی حکومت کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ دکانوں پر قیمتوں کی فہرستوں کی نمائش کو یقینی بنائیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اشیائے خورو نوش کی اسمگلنگ سے سختی سے نمٹا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: 'مہنگائی کے خلاف مہم کیلئے پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) کی حمایت حاصل کریں گے'

جہاں تک وفاقی حکومت کا تعلق ہے سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے کیونکہ وزیر اعظم خاص طور پر عام آدمی پر اس بوجھ کو کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تیزی سے کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ہفتے میں دو بار صوبائی چیف سیکریٹریوں سے بات کرتے ہیں۔

نوید کامران بلوچ کے مطابق وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو بھی 15 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں جہاں ضرورت ہے وہاں مزید اسٹور کھولنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت کھانے پینے کی اشیا کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے، وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ تجاویز تیار کر رہی ہے جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری ملے گی اور اس سے اشیائے ضروریات کی قلت کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ ان تمام لوگوں کا احتساب ہوگا، قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عام لوگوں کو جو پریشانی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب کارروائی نہیں کررہے ہیں کیونکہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند ہے'۔

کمیٹی نے آئندہ ہفتے فالو اپ اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور سینسیٹو پرائز انڈیکس (ایس پی آئی) سے متعلق ڈیٹا مالیاتی ڈویژن میں اقتصادی مشیر کی ونگ نے پاکستان بیورو آف شماریات کے ان پٹ کے ساتھ پیش کیا جس میں نوٹ کیا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں جنوری میں افراط زر میں تقریبا 14.6 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ پچھلے 5 ہفتوں کے دوران ایس پی آئی میں زوال کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

13 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں، ایس پی آئی -0.38pc تھا، پچھلے ہفتے میں 13 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا، یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ گندم پنجاب میں سب سے سستی اور سندھ میں مہنگا ترین بالترتیب 809 روپے فی 20 کلو بوری اور 1،058 روپے فی 20 کلو بوری رہی۔