'مہنگائی کے خلاف مہم کیلئے پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) کی حمایت حاصل کریں گے'

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت کرپٹ ہے — فائل فوٹو:ڈان
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت کرپٹ ہے — فائل فوٹو:ڈان

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے وہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 'مسلم لیگ (ن)، رہبر کمیٹی اور کثیر الجماعتی کانفرنس میں مہنگائی اور بے روزگاری پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرے گی اور مشترکہ حکمت عملی بنا کر سڑکوں پر نکلے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اس احتجاج کی قیادت کرے گی جبکہ اس کے صدر شہباز شریف بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر کی وزیراعظم عمران خان کو معیشت پر بریفنگ

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 'بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت کرپٹ ہے، (وزیر اعظم) عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ حکومت چینی اور گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئی، اس کے پیچھے کون ملوث ہے ان کا نام سامنے لائیں اور بتائیں کہ کب انہیں سزا دی جائے گی'۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ چینی اور آٹے کے بحران سے ایک سے ڈیڑھ کھرب روپے کمائے گئے ہیں اور جب عمران خان نے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو کلین چٹ دے دی ہے تو ان کے خلاف تحقیقات کی کون جرات کرے گا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ڈالر کے مصنوعی بحران میں ملوث افراد کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔

سابق وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں 300 فیصد تک کا اضافہ کیا جبکہ زراعت اور عوامی ہسپتالوں پر سے سبسڈی ہٹا دی جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

دوران گفتگو منشیات کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکوم کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے یا پھر ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا بند کرے۔

انہوں نے تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان کو تجویز دی کہ وہ سیاسی مخالفین بالخصوص شریف برادران کے لیے 'مہذب زبان' کا استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حکومت کی معاشی پالیسیز مسترد کردیں

ساتھ ہی انہوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت پر سیاست نہ کرنے کی بھی تجویز دی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے پہلے بیگم کلثوم نواز کی صحت پر سیاست کی گئی تھی اور اب حکومت مریم نواز کو اپنے بیمار والد کی تیمارداری کے لیے بیرون ملک جانے سے روک رہی ہے، جنہیں رشتوں کی کبھی پرواہ نہیں ہوتی وہ یہ نہیں جانتے کہ ہر بیٹی اور ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیمار پیاروں کے ساتھ ہوں'۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ 'جب مریم نواز کی سزا معطل ہوچکی ہے تو انہیں اپنے والد کے علاج کے دوران لندن جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی'۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک مڈ ٹرم انتخابات کی جانب جارہا ہے کیونکہ عمران خان ایسے شخص ہیں جو کسی کی عزت نہیں کرتے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 18 ماہ میں خود سے ایک بھی منصوبے کا آغاز نہیں کیا اور مسلم لیگ (ن) کے منصوبوں کا ہی دوبارہ افتتاح کردیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان، عثمان بزدار سے پوچھتے ہیں کہ وہ سرکاری منصوبوں کی تشہیر کیوں نہیں کرتے، وہ کیسے کرسکتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ منصوبوں کا آغاز مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا تھا'۔

علاوہ ازیں رانا ثنا اللہ نے نیب کی جانب سے شہباز شریف کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کی۔