ایف بی آر افسران کے خاندان پرال کمپنی میں ملازم ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

3 رکنی بینچ نے ایف بی آر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: ڈان
3 رکنی بینچ نے ایف بی آر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: ڈان

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) افسران کے خاندان کے افراد پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کمپنی میں ملازم ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایف بی آر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ایف بی آر کا ریکارڈ حساس ترین ہوتا ہے، انتہائی حساس ڈیٹا نجی کمپنی کو کیسے دے دیا گیا؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر ٹیکس بھی جمع کرنے کے لیے نجی کمپنی کو ہی دیتا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) نامی کمپنی نجی نہیں پبلک لمیٹڈ ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف بی آر افسران کے پورے پورے خاندان اس کمپنی میں ملازم ہیں، پرال کمپنی کو ختم کرکے قومی احتساب بیورو (نیب) میں تحقیقات کا کہہ دیتے ہیں، ایف بی آر اپنا کام خود کرے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے آن لائن ٹیکس پروفائل نظام متعارف کروادیا

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی سرکاری افسر پرال کمپنی سے تنخواہ نہیں لے رہا، کمپنی کا کام صرف سافٹ ویئر بنانا ہے ٹیکس اعدادوشمار اکٹھے کرنا نہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایف بی آر والے اپنا آئی ٹی سسٹم کیوں نہیں بناتے؟ اس پر قائم مقام چیئرپرسن ایف بی آر نوشین امجد نے کہا کہ سول سروس میں تنخواہیں کم ہونے کی وجہ سے تکنیکی لوگ نہیں آتے، میری تنخواہ پرال کمپنی کے جنرل مینیجر (جی ایم) سے بھی کم ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایف بی آر کو پرال کے قیام سے کیا فائدہ ہوا؟ کیا ایف بی آر کی ٹیکس ریکوری میں اضافہ ہوا؟

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایف بی آر افسران آن لائن پاسورڈز کے ساتھ جو کھیل کھیلتے ہیں معلوم ہے، بلاوجہ اربوں روپے کے ٹیکس ری فنڈ جاری کیے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ غیرقانونی ٹیکس ری فنڈ کے کئی مقدمات عدالت میں ہیں، آن لائن سسٹم سے بھی دو نمبری ہی ہونی ہے تو اس کا کیا فائدہ؟

عدالتی بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کمپنیاں بنانے کا مقصد صرف زیادہ تنخواہیں دینا ہے، حکومت جو کام کمپنیوں سے کرواتی ہے وہ خود کیوں نہیں کرتی؟ پنجاب میں بھی 56 کمپنیاں بنائی گئی ہیں۔

اس پر قائم مقام چیئرپرسن ایف بی آر نے کہا کہ بھارت میں بھی ریونیو کے محکمے نے ایسی کمپنی بنا رکھی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کمپنی میں من پسند افراد کو نوازنے پر تشویش ہے، کمپنیوں میں تقرریوں کا طریقہ کار شفاف ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پرال کمپنی کا منافع کس کو جاتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمپنی کا منافع حکومت کو جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پرال ٹھیک کام کر رہا ہوگا لیکن روزانہ کتنے کنٹینر بغیر ڈیوٹی ادا کیے نکل جاتے ہیں؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کنٹینرز فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ یہ بھی بتائیں پرال کے کن افراد کو ایف بی آر ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے؟

یہ بھی پڑھیں: نئے 'چیئرمین ایف بی آر' کے لیے تلاش شروع

اس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر پرال کو سالانہ 68 کروڑ روپے ادا کر رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے میں پرال پر کئی سوالات اٹھائے گئے، ایف بی آر کے مطابق پرال کمپنی حکومت کی ملکیت ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل کے مطابق پرال کمپنی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آر) کے ڈیٹا تک رسائی نہیں، پرال کمپنی ہائی کورٹ کے فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب دے۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے پرال کو کنٹریکٹ دیتے وقت پیپرا قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی؟ بعدازاں سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔