فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ایران کو بلیک لسٹ کردیا

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

ایران کے ساتھ لین دین کی مزید جانچ پڑتال ہوگی، ایف اے ٹی ایف — فائل فوٹو: رائٹرز
ایران کے ساتھ لین دین کی مزید جانچ پڑتال ہوگی، ایف اے ٹی ایف — فائل فوٹو: رائٹرز

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایران کو انسداد عالمی دہشت گردی کی مالی معاونت کے طے شدہ اصولوں کی پاسداری میں 'ناکامی' پر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف نے مذکورہ فیصلہ لینے سے قبل تہران کو خبردار کیا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی فنانسنگ کے قواعد کی پاسداری کرے۔

مزید پڑھیں: ایران: پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل

ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ 'ممالک کو چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر انسداد کے اقدامات اٹھائے'۔

اس ضمن میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ لین دین کی مزید جانچ پڑتال ہوگی، ایران میں فنانسنگ تنظیموں کا سخت بیرونی آڈٹ ہوگا اور ایران کے ساتھ کام کرنے والے بینکوں اور کاروباری اداروں پر بھی دباؤ ڈالا جائے گا۔

غیر ملکی کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق ایران کی تعمیل اہم ہے اگر تہران سرمایہ کاروں کو راغب کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ 2015 منسوخ کر کے تہران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کشیدگی میں کمی نہیں چاہتا، ایران

خیال رہے کہ امریکا, ایران کے خلاف 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی پر زور دیتا رہا ہے۔

واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری امور، میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی سرگرمیوں پر بات چیت ہونی چاہیے۔

واضح رہے ایف اے ٹی ایف کی پابندی ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب ایران میں پارلیمانی انتخابات کا عمل آج مکمل ہوا ہے جس کے نتائج کل متوقع ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکا نے ایرانی کونسل کے عہدیداروں پر پابندی عائد کی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران کو بات چیت سے قبل اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا، سعودی عرب

امریکا نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں 7 ہزار انتخابی امیدواروں کو نااہل قرار دینا ایرانی عوام کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے اور اسی پس منظر میں ان عہدیداروں پر پابندی عائد کی گئی جنہوں نے انتخابی امیدواروں کو نااہل قرار دیا۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب، ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی نہیں چاہتا۔

جس کے جواب میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ تہران اور دیگر ممالک کے درمیان کسی بھی طرح کی بات چیت سے قبل ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔