ایران: پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

290 نشستوں کے چیمبر کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی — فوٹو: اے ایف پی
290 نشستوں کے چیمبر کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی — فوٹو: اے ایف پی

ایران میں نئی پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے ٹرن آؤٹ پر لوگوں کی گہری نظر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق اصلاح پسند اور اعتدال پسند پر مشتمل 7 ہزار سے زائد امیدواروں کے نااہل قرار پانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرن آؤٹ کا تناسب معمول سے کم ہوگا۔

مزید پڑھیں: ایران کے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

290 نشستوں کے چیمبر کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی جو شام 6 بجے تک جاری رہی۔

ایران کی قیادت اور سرکاری میڈیا نے رائے دہندگان کی شرکت پر زور دیا اور بعض لوگوں نے اسے مذہبی فریضے کے طور پر پیش کیا۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صبح 8 بجے پولنگ کے آغاز کے فوری بعد اپنے تہران کے دفتر کے قریب واقع ایک مسجد میں اپنا ووٹ ڈالا اور ایرانیوں کو انتخابات میں شرکت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص ایران کے قومی مفادات کی پرواہ کرتا ہے اسے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ زیادہ ووٹ ڈالنے سے 'ایران کے خلاف امریکیوں اور اسرائیل کے حامیوں کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوجائیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کشیدگی میں کمی نہیں چاہتا، ایران

انہوں نے کہا تھا کہ 'دشمن یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکا کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے کیا نتائج ہیں'۔

انہوں نے واشنگٹن کی طرف سے امریکی پابندیوں اور دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بیرون ملک تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور اس کی معیشت کو کساد بازاری پر مجبور کردیا گیا ہے۔

اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کے ذریعے قوم سے ایک اور فتح حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔

حسن روحانی نے کہا کہ ہمارے دشمن ماضی کے مقابلے میں زیادہ مایوس ہوں گے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی کونسل کے دو اعلیٰ عہدیداروں اور انتخابی نگران کمیٹی کے تین ممبران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے ایران میں 2 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں 7 ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دینا ایرانی عوام کی آواز کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔

جس پر ایرانی کونسل کے ترجمان عباس علی نے واشنگٹن کے حالیہ اقدام کو علاقائی امور میں مداخلت اور ظلم کی تازہ مثال قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ مذکورہ انتخابات ایسے وقت پر منعقد ہو رہے ہیں جب ایران کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد تہران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے باعث بنیادی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھی اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔

علاوہ ازیں گزشتہ برس نومبر میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پرتشدد مظاہروں میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایران، سعودیہ تنازع سے خطے میں غیرمعمولی غربت بڑھے گی، عمران خان

واضح رہے کہ ایران میں پارلیمنٹ صرف سالانہ بجٹ اور وزرا کے ممکنہ مواخذے پر بحث کرتی ہے۔

ایران میں اقتدار بالآخر آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہی ہے جو اہم نوعیت کی پالیسی پر حتمی رائے رکھتے ہیں۔

ایران کی 8 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے 5 کروڑ 80 لاکھ ایرانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد ہی ووٹ دے سکتے ہیں۔

پچھلے پارلیمانی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ رہا تھا جبکہ 2016 میں یہ تقریباً 62 فیصد تھا۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج ہفتہ کو سنائے جانے کا امکان ہے۔