کیا کراچی کنگز نے آئی سی سی قوانین کی خلاف ورزی کی؟

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ ڈین جونز نے موبائل فون کے استعمال کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کردیا— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل
کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ ڈین جونز نے موبائل فون کے استعمال کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کردیا— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے دوسرے میچ میں کراچی کنگز کی ٹیم نے قوانین کی دھجیاں اڑا دیں اور فرنچائز کے ایک آفیشل خلاف قانون ڈگ آؤٹ میں موبائل فون پر گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے۔

جمعہ کو کراچی کنگز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق وسیع پشاور زلمی کے خلاف میچ میں ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں موبائل فون پر گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

آئی سی سی نے 2011 میں ڈریسنگ روم میں انٹرنیشنل میچوں کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی اور اس پابندی کا اطلاق ڈگ آؤٹ پر بھی ہوتا ہے۔

آئی سی سی کے قوانین کے تحت میچ کے دوران ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں موجود صرف منیجر کو فون کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس کو بھی پہلے بتانا ہوتا ہے اور عموماً رابطے کے لیے واکی ٹاکی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اصولی طور پر صرف ٹیم کے منیجر نوید رشید کو ڈگ آؤٹ میں فون پر گفتگو کی اجازت تھی لیکن کراچی کنگز نے اس بات کا خیال نہ رکھتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

طارق وسیع کی جانب سے ٹیم ڈگ آؤٹ میں فون کے استعمال کی فوٹیجز فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور شائقین کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

فون کے استعمال پر کراچی کنگز کی ٹیم مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے اور انہیں پی سی بی کی جانب سے تنبیہہ کے ساتھ ساتھ جرمانے کا بھی امکان ہے۔

قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی نشاندہی کی۔

تاہم ڈین جونز نے اسے قانون کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تمام ٹی20 کرکٹ لیگز کی طرح منیجر/سی ای او کی موبائل فون رکھنے کی اجازت ہوتی ہے، طارق ہمارے سی ای او ہیں اور ہمارے لیے پریکٹس کا انتظام کر رہے تھے۔

کراچی کنگز اپنا دوسرا میچ اتوار کو دفاعی چیمپیئن گلیڈی ایٹرز کے خلاف کھیلے گی۔