شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال مچلکے جمع ہونے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا

26 فروری 2020

ای میل

جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے دونوں رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز
جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے دونوں رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کر دیا گیا۔

احتساب عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد دونوں رہنماؤں کی روبکار جاری کی گئی جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔

جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے دونوں رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز نے نارووال اسپورٹس کمپلیکس اور ایل این جی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے وکلا اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: نیب کا احسن اقبال، شاہد خاقان کی ضمانت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

عدالت نے دونوں کیسز میں وکلا اور نیب کے دلائل مکمل ہونے پر شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی الگ الگ ضمانت منظور کی اور دونوں کو ایک، ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں نیب کی جانب سے دونوں لیگی رہنماؤں کی ضمانت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

خیال رہے کہ یکم فروری کو شاہد خاقان عباسی جبکہ احسن اقبال نے اس سے 4 روز قبل ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔

دونوں رہنماؤں کی گرفتاری

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو قومی احتساب بیورو نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا۔

ان پر الزام ہےکہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شاہد خاقان و دیگر کے خلاف ایل این جی کیس میں ریفرنس دائر کردیا

بعد ازاں 3 دسمبر 2019 کو نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔

نیب کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ نیب راولپنڈی نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے فنڈز استعمال کرنے کا الزام ہے۔