امریکی صدر کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، حکومت کے ردعمل پر پیپلز پارٹی کی تنقید

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کیا تو وہ بھارت کی طرفداری کریں گے — فائل فوٹو: رائٹرز
سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کیا تو وہ بھارت کی طرفداری کریں گے — فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش پر اسلام آباد کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جس جوش و جذبے کا اظہار کیا جارہا وہ نہایت غلط ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ واشنگٹن بھارت کی طرف داری کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کریں گے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھارت کی طرف داری کریں گے، بھارت میں ان کے پریس کانفرنسز کا انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ دہلی خطے میں پولیس کا کردار ادا کرے'۔

مزید پڑھیں: بھارت: ٹرمپ نے پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی

انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کے دورے کے دوران انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور قتل و غارت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو ٹرمپ کو ثالث کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ یہ حقیقت بھول رہے ہیں کہ انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا، انہوں نے ہی اسرائیل کے گولان ہائیٹس پر قبضے کا اعتراف کرتے ہوئے اسے قانونی قرار دیا تھا'۔

رضا ربانی نے کہا کہ 'فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین تنازع کے حل کے لیے حالیہ امریکی منصوبے میں فلسطینی عوام کو ان کے تاریخی اور بین الاقوامی حقوق سے محروم کیا گیا اور واضح طور پر اس حوالے سے اسرائیل کی طرف داری کی گئی، کیا حکومت اسی قسم کی ثالثی کشمیر کے لیے بھی چاہتی ہے؟'

واضح رہے کہ وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر نے گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دی گئی اس یقین دہانی کے مطابق مسئلہ کشمیر کو بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت: خطے میں مفادات کے نئے کھیل کا آغاز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 'مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال اور اس پر عالمی رد عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ثالثی کی تازہ پیش کش ہندوستان کے بیانیے کی نفی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی تاہم انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور عمران خان کو اپنا دوست قرار دیا'۔