بھارتی طیارے گرانے کا ایک سال مکمل: 'حیران کن ردِ عمل نے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا‘

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

چیف آف ایئر اسٹاف نے تقریب سے خطاب کیا — تصویر: ڈان نیوز
چیف آف ایئر اسٹاف نے تقریب سے خطاب کیا — تصویر: ڈان نیوز
تقریب کے مہمان خصوصی ایئر چیف مجاہد انور خان تھے — تصویر:ڈان نیوز
تقریب کے مہمان خصوصی ایئر چیف مجاہد انور خان تھے — تصویر:ڈان نیوز
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فلائی پاسٹ کا شاندار مظاہرہ کیا — تصویر: ڈان نیوز
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فلائی پاسٹ کا شاندار مظاہرہ کیا — تصویر: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاک فضائیہ کی جانب سے 27 فروی کو بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایئرہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 27 فروری کو پاک فضائیہ نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بھارت کے 2 لڑاکا طیاروں کو گرا کر ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا اور پاک فضائیہ نے اس کامیابی کو 'آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ' کا نام دیا تھا۔

اسی سلسلے میں منعقدہ تقریب میں چیف آف ایئراسٹاف ایئرچیف مارشل مجاہد انور نے بطور مہمانی خصوصی شرکت کی، جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

تقریب کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فلائی پاسٹ کا شاندار مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں: 27 فروری: بھارتی طیارے کی تباہی، پائلٹ کی گرفتاری کا ایک سال مکمل

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا کہ آج ہم آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کی ’شاندار فتح‘ کی یاد میں اکٹھے ہوئے ہیں۔

پاک فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’پاک فضائیہ نے اپنی روایت پر قائم رہتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری سے اپنی پہچان قائم کی‘۔

بھارتی طیاروں کی تباہی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’فوری اقدامات اور حیران کن ردِ عمل نے حملہ آور کا غرور خاک میں ملادیا‘۔

ایئر چیف کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری کامیابیاں اللہ کی مہربانی کی بدولت ہیں، دہائیوں کی محنت، پاک فضائیہ کی آپریشنل گنجائش میں ہمارے پیش رو کی انویسمنٹ اور ہمارے اہلکاروں کے بہادرانہ اقدامات نے اس بات میں کوئی شبہ نہیں چھوڑا کہ پی اے ایف بنیادی قومی دفاع کو یقینی بنارہی ہے اور بناتی رہے گی۔

ایئر چیف مارشل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایئر فورس ایک پر امن ملک کی سب زیادہ قابل احترام اور ذمہ دار ایئر فورسز میں سے ایک ہے‘۔

اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ’مختلف چیلنجز‘ کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود پی اے ایف گزشتہ 2 دہائیوں سے جہاں اپنی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مستحکم بنا کر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی راہ پر گامزن ہے وہیں صلاحیتوں میں اضافہ ہمارا بنیادی مقصد ہے۔

سربراہ پاک فضائیہ کا کہنا تھا کہ ’آج ہمارے پلیٹ فارمز جدید ہتھیاروں سے مزین ہیں جو ہمارے مقامی ٹیکنالوجی کی حصول کی کامیابی کی وضاحت کرتے ہیں اس کے ساتھ ہم انسانی وسائل کی ترقی اور پاک فضائیہ کے آرکیٹیکچر کو مضبوط بنانے کی طاقت پر خصوصی زور دیتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے 2 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، پاک فوج

انہوں نے پاک فضائیہ کو ’سخت جان‘اور اپنے مشن پر توجہ مرکوز‘ رکھنے والے فوج قرار دیا۔

پاک فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’میرے جوانوں، جہاں میں پاکستانی قوم کو کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی پاک فضائیہ کی تیاریوں کا یقین دلاتا ہوں وہیں (یہ بھی کہتا ہوں کہ) ہم پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘۔

خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یاد رہے کہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں ہم کسی سے کم نہیں، دیگر خدمات کے ساتھ پی اے ایف پاکستان کے دفاع کے لیے تیار ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سپاہی چندو بابو لال سے پائلٹ ابھی نندن تک

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ برس فروری میں سب سے اہم آپ کی پیشہ ورانہ برتری اور دشمن کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے، جس کے لیے ہم نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا۔‘

تقریب کے دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ سے قبل کے واقعات پر روشنی ڈالی گئی۔

27 فروری کو کیا ہوا تھا؟

گزشتہ برس 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے شہر پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کا الزام بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان نے عائد کیا تھا لیکن پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا اسی دوران 26 فروری 2019 کوبھارتی طیاروں نے آزاد کشمیر کے علاقے بالا کوٹ میں دراندازی کی کوشش کی جسے پاکستانی طیاروں نے ناکام بنا دیا تھا۔

اس کے اگلے ہی روز یعنی 27 فروری کو بھارتی طیاروں نے ایک مرتبہ پھر دراندازی کی کوشش کی جس کے جواب میں پاک فضائیہ نے 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور پاکستانی حدود میں گرنے والے ایک طیارے میں سے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم گرفتاری کے چند روز بعد ہی پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کر کے واپس بھارت کے حوالے کردیا تھا۔