ٹھٹہ: ماں نے اپنی، 4 کم سن بیٹوں کی زندگی کا خاتمہ کرلیا

09 مارچ 2020
پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے مَکلی کے سول ہسپتال منتقل کیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے مَکلی کے سول ہسپتال منتقل کیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

پولیس نے ٹھٹہ کے جِھمپیر ٹاؤں کے قریب گاؤں کی ایک جھونپڑی سے ایک خاتون اور ان کے 4 کم سن بیٹوں کی لاشیں برآمد کرلی۔

ضلعی حکام کے مطابق 42 سالہ خاتون اور ان کے چار کم سن بیٹوں کی لاشیں گاؤں کولمبیا فارم کی ایک جھونپڑی سے ملیں۔

پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے مَکلی کے سول ہسپتال منتقل کیا۔

سول ہسپتال کے عہدیدار ڈاکٹر سکندر شاہ نے کہا کہ وہ اموات کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر گَیان چند کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ متوفی گلا گھونٹے جانے کے باعث ہلاک ہوئے کیونکہ ان کے گلے پر نشانات موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تھرپارکر: خواتین میں خودکشی کا رجحان بڑھنے لگا

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ ویرجی کولہی کا ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خاتون نے اپنے بچوں کو کوئی زہریلی چیز کھلا کر خودکشی کرلی۔

انہوں نے کہا کہ 'پولیس حکام کو متاثرہ خاتون کی آواز کی ریکارڈنگ ملی ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ بیٹی کے سسرال کی طرف سے دھمکی کے بعد وہ اپنی اور اپنے کم سن بیٹوں کی زندگی کا خاتمہ کرنے جارہی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایس ایس پی ٹھٹہ کو متاثرہ خاتون کو دھمکی دینے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

ویرجی کولہی نے کہا کہ اب دھمکی دینے والوں کے خلاف مقدمہ متوفی کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ٹھٹہ سہائے تالپور نے کہا کہ خاتون نے اپنی جان لینے سے قبل اپنے بیٹوں کو کوئی زہریلی چیز کھلائی۔

مزید پڑھیں: سندھ: 2019 میں 'غیرت کے نام' پر 108 خواتین کو قتل کیا گیا، پولیس

ان کا کہنا تھا کہ زہریلے مواد سے بھی جب بچوں کی موت واقع نہ ہوئی تو خاتون نے ان کا گلا دبا کر بھی ان کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔

ڈی ایس پی جِھرک اصغر جٹ نے کہا کہ حکام مختلف زاویوں سے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اس لیے فی الوقت اس سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 'پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں واقعے کی جامع تحقیقات کی جائے گی۔'

تبصرے (0) بند ہیں