کورونا وائرس: لاک ڈاؤن اور تعطیلات کے دوران والدین کیا کریں؟

اپ ڈیٹ 22 مارچ, 2020

ای میل

فوٹو: شٹراسٹاک
فوٹو: شٹراسٹاک

'ماما ہم گھر میں کیوں بند ہیں؟'

'بابا مجھے پارک کیوں نہیں لے جارہے؟'

'مجھے اپنے دوستوں کے پاس جانے دیں گے آج؟'

'مجھے پلے لینڈ جانا ہے بس، لے جائیں نا!'

آج کل ان جیسے ڈھیروں سوال ہر دوسرے گھر میں گونجتے رہتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بڑھتی مریضوں کی تعداد اور اموات کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی اداروں کو قبل از وقت بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے والدین خصوصاً مائیں بہت تشویش کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: آمنہ شیخ کا گھروں میں موجود بچوں کی تربیت سے متعلق مشورہ

ہر وقت کے سوالات، بہن بھائیوں کے آپسی جھگڑوں، گھر میں شور شرابے، باہر جانے کی پابندی، تعلیمی سرگرمیوں کا متاثر ہونا، اور انجانے خوف جیسے بہت سے مسائل کی وجہ سے والدین پریشان ہیں۔

تاہم اس تشویشناک صورتحال کو تھوڑی سی گفتگو، سرگرمیوں (Activities)، دن بھر کے معمولات یعنی روٹین بنانے اور مشترکہ طور پر خوشگوار ماحول بنائے رکھنے سے ممکنہ پریشانیوں اور نفسیاتی مسائل میں تبدیل ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

فوٹو: شٹراسٹاک
فوٹو: شٹراسٹاک

بچوں سے کیسے بات کریں؟

1۔ یہ بات ذہن میں دہراتے جائیں کہ بچوں کا پریشان اور خوفزدہ ہونا فطری ہے، گھر میں بند رہنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور موبائل سے مسلسل معلومات کا بہاؤ اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

2۔اس موضوع پر خود سے پہل کریں اور بچوں سے بات کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔

3۔ چھوٹے بچوں کے سامنے حتی الامکان نیوز چینلز بند رکھیں تاکہ وہ دنیا بھر کی خوفناک اور خوفزدہ کردینے والی خبریں براہ راست نہ سنیں۔

4۔ (اگر گھر میں کوئی کورونا کا مریض نہیں ہے یا بچے براہ راست کسی متاثرہ فرد کو نہیں جانتےتو) بہت سی باتیں بچوں کو بتانا ضروری نہیں ہے۔

5۔ اگر بچہ اسکول ابھی جانا شروع ہوا ہے یا درمیانی کلاسز میں ہے تو اسے غیر مستند اور ڈرا دینے والی معلومات سے بچانے کے لیے اس کی ذہنیت اور عمر کے لحاظ سے آسان انداز اور الفاظ میں کورونا پر بات کریں۔

6۔ ٹین ایجرز کو بڑوں کی طرح ٹریٹ کریں اور کورونا کے طبی اثرات پر بات کریں۔

7۔ بچے جب بھی اپنی پریشانی اور خدشات کا ذکر کریں، انہیں غور سے سنیں۔

8۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا کوئی مبالغہ آمیز بات کریں تو ڈانٹنے یا چیخنے کے بجائے تحمل سے جواب دیں اور سوال کریں کہ انہیں یہ بات کہاں سے پتا چلی۔

9۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بات کریں، یوں آپ انہیں یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ ان کے خدشات اور احساسات کو سنبھال سکتے ہیں۔

10۔ غیر مستند معلومات کے حوالے سے محتاط رہنے کا کہتے رہیں اور سائنسی اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنے پر رہنمائی دیں۔

11۔ مثبت اقدامات پر رہنمائی دیں جیسے ہاتھ دھونا، باہر لوگوں سے ہاتھ ملانے سے گریز اور دور سے سلام کرنا، اگر بہت عرصے گھر پر رہنا ہے تو ان سے کھانے پینے اور ان کی ضروریات کی فہرست بنانے کا کہیں۔

فوٹو: شٹراسٹاک
فوٹو: شٹراسٹاک

ایسی باتوں کے لیے مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے بچوں کو بہتر طور پر سکھایا جاسکتا ہے۔

اکیڈمک تعطیلات کے دوران تعلیم کیسے جاری رکھیں؟

1۔سب سے پہلے تو ارادہ کریں کہ آپ نے بچوں کی پڑھائی کا کام کبھی بھی کل پر نہیں ڈالنا، چاہے بچے لڑ جھگڑ رہے ہوں یا آپ کو بہت ہی ضروری کام آج ہی مکمل کر کے آفس بھیجنا ہے، لرننگ کے لیے آج اور ابھی کی نیت اور ارادہ کریں۔

2۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھائیں (جسےBaby Step Strategy کہتے ہیں)۔ سب کچھ ایک ساتھ کرنے کے نتیجے میں کچھ بھی نہیں ہو پاتا اور آپ مشتعل اور مایوس ہو کر بچوں کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

فوٹو: ڈی این سائیکولاجی
فوٹو: ڈی این سائیکولاجی

3۔ دن بھر کی روٹین بنائیں۔ مثال کے طور پر:

8:00-9:00 کے درمیان: اٹھنا، ہاتھ منہ دھونا، دانت صاف کرنا، بال بنانا، رات کے کپڑے اتار کر دن کا لباس پہن لینا، بستر ترتیب دینا (بچوں کی عمر کے لحاظ سے وقت اوپر نیچے کیا جاسکتا ہے، یوں روٹین کے اوقات بھی اس لحاظ سے تبدیل ہو جائیں گے)۔

صبح 9:00-10:00: ورزش، جسمانی سرگرمی (واکنگ، یوگا/ایروبکس، بچوں کے کھیل وغیرہ)، 2-3 گلاس پانی پینا، ناشتہ کرنا، دن اور رات کے کھانے طے کرنا(بڑوں کا کام)۔

10:00-11:00: اکیڈمک سرگرمیاں (جو اسکرین یا ڈیوائسز کے بغیر ہوں) جیسے پڑھنا، ورک بکس مکمل کرنا، لکھنا، فلیش کارڈز یا میسر تعلیمی لوازمات (Academic Tools) استعمال کرنا۔

11:00-12:00: تخلیقی سرگرمیاں جیسے ڈرائنگ، پینٹنگ، نظمیں پڑھنا، کھلونوں سے کھیلنا، کھانا بنانے کی سرگرمی وغیرہ۔

12:00-12:30: لنچ

12:30 – 1:00: گھریلو کاموں میں مدد جیسے کچن کے سینک، درازوں وغیرہ کی صفائی، میزوں اور کرسیوں کو صاف کرنا، ٹوائلٹ کے فلش/کموڈ اور واش بیسن کی صفائی، گھر کے دروازوں و بجلی کے سوئچ صاف کرنا۔

1:00-2:30: پرسکون وقت (نماز/عبادت، مطالعہ، نیند وغیرہ)

2:30-4:00: اکیڈمک سرگرمیاں (یہاں ڈیوائسز استعمال کی جاسکتی ہیں)

4:00-5:00: کھیل کود اور جسمانی سرگرمی

5:00-7:00: فارغ وقت (ٹی وی، کارٹون، تفریحی سرگرمیاں وغیرہ)

7:00-8:00: رات کا کھانا

8:00-9:00: فیملی کے ساتھ کا وقت (گپ شپ، اسٹوری ٹیلنگ وغیرہ)

9:00 کے بعد: سونے کی تیاری

4۔ آغاز کسی ایک مضمون سے کریں جو بچے کی دلچسپی کا بھی ہو اور سیکھنے کے لحاظ سے بھی اہم ہو۔

5۔ بچوں کی عمر کے لحاظ سے کم از کم دورانیہ طے کریں جیسے 4 سال کی عمر کا بچہ کے لیے ایک گھنٹہ (یعنی ہر سال کے 15 منٹ) اور 6 سالہ بچے کے ڈیڑھ گھنٹہ۔

6۔ تھوڑی بڑی عمر کے بچوں کو ای-لرننگ (جیسے خان اکیڈمی، کورس ایرا، مختلف ایپس، نیٹ فلیکس کے معلوماتی کیٹگریز کے پروگرام وغیرہ) کا آغاز بھی کرایا جا سکتا ہے جہاں انہیں 21 ویں صدی میں درکار صلاحیتوں سے واقفیت اور رفتہ رفتہ مہارت آتی جائے۔

7۔پڑھائی لکھائی، کھیل کود اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے مختلف جگہیں متعین کریں (اپنے گھر/فلیٹ کی وسعت کے لحاظ سے)۔

8۔ تجرباتی ماڈل کو اپنانے کو کوشش کریں (روٹین، اکیڈمک سرگرمیوں، لرننگ کے اہداف، سیکھنے کے وسائل وغیرہ کو مسلسل تبدیل کرتے رہیں جب تک وہ آپ کے مقاصد سے ہم آہنگ نہ ہو جائیں)

فوٹو: شٹراسٹاک
فوٹو: شٹراسٹاک

کورونا تعطیلات کے نفسیاتی مسائل سے کیسے بچیں؟

مسلسل گھر میں بند رہنے یا کورونا وائرس سے ہونے والے نقصانات دیکھنے سے بچوں اور بڑوں کو مختلف نفسیاتی مسائل ہو سکتے ہیں جیسے:

ڈپریشن: ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچانے والی اداسی کو ڈپریشن کہتے ہیں جس کی علامات میں توجہ برقرار رکھنے اور فیصلہ سازی میں مشکل ہونا، تھکی ماندی طبعیت، پشیمانی اور مجبوری کا احساس، مایوسی، نیند ختم ہو جانا، چڑچڑا پن، پسندیدہ چیزوں میں دلچسپی کھو دینا، زیادہ کھانا، جسمانی یا سر درد ہونا، خالی پن، خودکشی کا رجحان وغیرہ شامل ہیں۔

اینگزائٹی: اندرونی بے چینی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کی علامات میں غیر فطری اعصابی رویہ جیسا مسلسل چلتے رہنا، جسمانی درد، خوف، نیند میں مسائل، بے سکون رہنا، سانس پھول جانا، دھڑکن کا بڑھنا یا کم ہونا، منہ خشک ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

خراب موڈ

جھنجھلاہٹ ہونا (Frustration)

کیبن فیور(Cabin Fever): مسلسل بند رہنے سے پیدا ہونے والا فوبیا جس کی علامات میں مسلسل تھکاوٹ، سستی، اداسی، توجہ برقرار رکھنے جیسا مسئلہ ہونا، ، صبر ختم ہو جانا، بھوک بڑھ جانا، تحرک کم ہوجانا، جاگنے میں دشواری، بار بار سونا، ناامیدی،، وزن بڑھنا یا کم ہونا، تناؤ کا سامنا نہ کر پانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ

لمبی تنہائی سے بچے خصوصاً نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان مسائل کی چند بنیادی وجوہات یہ ہوتی ہیں:

ہم آزادی کا ذہنی احساس کھو دیتے ہیں

دیگر انسانوں سے جڑے ہونے کی توانائی سے محروم ہوجاتے ہیں

اپنی صلاحیتوں اور استعداد استعمال نہ کر سکنے کی وجہ سے احساس مجبوری سے بھر جاتے ہیں۔

فوٹو: آئی اسٹاک
فوٹو: آئی اسٹاک

ان سے بچنے کے لیے درج ذیل تدابیر فائدہ مند ہو سکتی ہیں:

1۔ گھر کے تمام افراد مل کر منصوبہ بندی کریں، آنے والے دنوں پر بات کریں، اپنی کمزوریوں، خوبیوں کو جانیں تاکہ پتا چل سکے کون کس وقت کس کام آسکتا ہے۔ اس طرح سے ہم 'کورونا تہنائی سے جنگ' کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اسے ٹیم ورک بھی کہہ سکتے ہیں۔

2۔ بچوں اور آپس (یعنی والدین) میں بات چیت کی حکمت عملی (اوپر دی گئی ہے) بنائیں اور عمل کریں تاکہ خاندان کے لوگ حقیقی صورتحال کو نہ صرف قبول کریں بلکہ اس کا سامنا کرنے کا عزم بھی پیدا کریں۔

3۔ روٹین (اوپر دی گئی ترتیب کے مطابق) ضرور بنائیں لیکن سختی پر عملدرآمد سے گریز بہتر ہے۔ روٹین کا مقصد تناؤ سے آزادی ہونا چاہیے نہ کہ کسی قسم کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کرنا۔

4۔ نفسیاتی و ذہنی مشکلات سے بچنے کا سب سے موثر حربہ جسمانی سرگرمی کو بڑھا دینا ہے یعنی ایکسرسائز اور کھیل کود۔ یہ ہمارے موڈ کو نہ صرف بہتر رکھتی ہے بلکہ اضافی ذہنی توانائی فراہم کرتی ہے۔

بچے جسمانی سرگرمی کے بغیر فورا بوریت اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے لیے ایکسرسائز کے منفرد طریقوں سے انہیں بہتر ذہنی کیفیت میں رکھا جا سکتا ہے۔

5۔ گھریلو تنہائی کے دوران چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا احساس بہت امید افزاء اور سکون دینے والی چیز ہے۔ اکیڈمک کام ہوں، یا آفس کے کام، گھریلو کام کاج ہوں یا مرمت کے، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں، شاباش دیں، چھوٹا موٹا گفٹ دیں تاکہ اس سے سب کے اندر اگلے کام کا حوصلہ پیدا ہوتا رہے۔

اس کے علاوہ فیملی کے اراکین مشترکہ طور پر کچھ کام یا سرگرمیاں کر سکتے ہیں جیسے مووی نائٹ کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد، گھر کی دوبارہ سے آرائش، پینٹ کرنا وغیرہ۔

6۔ ان مشکل حالات میں ایک دوسرے کو 'اپنے ساتھ وقت گزارنے یا سرگرمی کرنے' کا موقع دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی گھر کی روایات کو بچوں تک پہنچانے یا نئی روایات طے کرنے میں بچوں کی شمولیت سے سماجی تنہائی کا عرصہ دلچسپ بنایا جا سکتا ہے

7۔ عملی طور پر میل ملاپ پر پابندی کے توڑ پر ٹیکنالوجی کو اپنے دوستوں، رشتے داروں اور ساتھیوں سے رابطے میں رہنے کے لیے استعمال کریں۔ بچے عموماً سماجی میل جول کو بہت پسند کرتے ہیں۔ انہیں مختلف سوشل میڈیا ٹولز کی مدد سے اپنے تجربات شئیر کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے، اگر بچے چھوٹے ہیں تو انہیں ویڈیو کالنگ کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطے میں رکھا جا سکتا ہے۔

8۔ ان مشکل دنوں کو آئندہ کے لیے بہتری اور تبدیلی کے لیے استعمال کریں۔ جیسے بچوں کے ذہنوں میں یہ تناظر یا نقطہء نظر پیدا کریں کہ زندگی کے تیز بہاؤ میں ہمارے پاس اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور خود اپنے لیے وقت کی کمی کا مسئلہ رہتا ہے جسے ہم ان دنوں آسانی سے حل کر سکتے ہیں۔ خود کو اور بچوں کو سکھائیں کہ کبھی کبھی 'کچھ نہ کرنا اور فارغ رہنا' زندگی کے لیے کتنا ضروری اور خوبصورت تجربہ ہے۔

فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور فیس بک پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔