پاکستانی ڈیجیٹل 'انفلوئینسرز' کورونا وائرس کی غلط معلومات روکنے کیلئے سرگرم

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2020

ای میل

رضاکارانہ طور پر اس پہل کی وزیراعظم کا دفتر حمایت کررہا ہے — فائل فوٹو: شٹراسٹاک
رضاکارانہ طور پر اس پہل کی وزیراعظم کا دفتر حمایت کررہا ہے — فائل فوٹو: شٹراسٹاک

کراچی: کورونا وائرس کی آگاہی دینے کے لیے ایک 4 منٹ کی ویڈیو یو ٹویب پر چند گھنٹوں کے دوران 57 ہزار سے زائر مرتبہ دیکھھی گئی جس میں پیغام دیا گیا ہے کہ 'حقائق جانیں اور قیاس آرائیاں نہ کریں'۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے 500 سے زائد کیسز اور 3 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، ویڈیو بنانے والے بیکار فلمز واحد نہیں جو سوشل میڈیا پر عوام کی آواز بنے بلکہ بہت سے افراد جو گھر سے کام کررہے ہیں ان کے لیے آن لائن پلیٹ فارم معلومات کا گڑھ بن چکا ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق غلط معلومات کے پھیلاؤ کے دوران وزیراعظم کے دفتر کی معاونت سے 200 انفلوئینسرز (اثر و رسوخ رکھنے والے) عوام کو بہتر طور پر آگاہ رکھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فخر عالم کی وزیر اعظم سے ملک میں لاک ڈاؤن کی درخواست

لاریب مہتاب نامی ایک ٹوئٹر صارف جن کے 18 ہزار فالوورز ہیں، انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا 'اب سے میں کورونا وائرس کی وہ اپڈیٹ فراہم کروں گی جو مصدقہ ہوں اور وزارت صحت سے مجھ تک پہنچیں، میں درخواست کرتی ہوں کہ جعلی خبریں نہ پھیلائیں اس سے افراتفری پھیل سکتی ہے۔

اپنی پوسٹ کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ہیش ٹیگ شیئر کیا جو تھا 'احتیاط کرونا'۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے لاریب نے واضح کیا کہ ٹیم براہ راست وفاقی وزارت صحت کے بجائے دفتر وزیراعظم کے ساتھ کام کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت بہت سی غیر مصدقہ معلومات موجود ہیں جس میں کورونا کے علاج کے لیے مختلف طرح کے ٹوٹکے بھی شامل ہیں'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: سندھ میں مزید 15 کیسز، ملک میں متاثرین کی تعداد 510 ہوگئی

ایک گروپ کا حصہ بننے کے لیے ایک انفلوئنسر (اثر و رسوخ رکھنے والے) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم (انسٹاگرام، یو ٹیوب، ٹوئٹر اور ٹک ٹاک) پر 10 ہزار سے زائد فالوورز ہونا ضروری ہے اور اپڈیٹس کے ساتھ ساتھ وہ عوامی مہم کے لیے مواد بھی تخلیق کرسکتے ہیں۔

مذکورہ نیٹ ورک کے لیڈر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'معتبر معلومات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے تا کہ وائرل ہونے والی توہمات اور جعلی خبروں کا توڑ کیا جاسکے، ہم بڑے انفلوئنسرز کو استعمال کررہے ہیں جو حکومت کی جاری کردہ سرکاری ہدایات پر مشتمل مواد تخلیق کرتے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ انفلوئینسرز نیٹ ورک کا حصہ ہیں جبکہ رضاکارانہ انیشی ایٹو (پہل کرنے والوں) کو وزیراعظم کا دفتر معاونت فراہم کررہا ہے اور یہ بلا معاوضہ پروجیکٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں اموات 4 ہزار سے تجاوز، مزید امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن

اسی حوالے سے پروجیکٹ میں شامل ایک انلفلوئینسر سلمیٰ پاریکھ کا کہنا تھا کہ گروپ تین قسم کا مواد شیئر کرتا ہے اس میں سرکاری معلومات (حکومتی اعلانات اور کیسز کی تعداد)، عوامی دلچسپی کے مضامین اور مواد کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے دفتر اور دیگر معتبر ذرائع سے مصدقہ معلومات کے ذریعے توہمات کا خاتمہ شامل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کے پروگرام ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس نے وزارت صحت میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی تصویر شیئر کی تھی اور بتایا تھا کہ ایک وار روم بنایا گیا ہے جہاں ٹیکنالوجی رضاکار ڈاکٹر ظفر مرزا اور ان کی ٹیم کے ساتھ اشتراک کرسکتے ہیں۔