خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ 2 مریض صحتیاب

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

خیبرپختونخوا میں وائرس سے متاثرہ دو افراد صحتیاب ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
خیبرپختونخوا میں وائرس سے متاثرہ دو افراد صحتیاب ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ دو مریض صحتیاب ہو گئے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے تصدیق کی کہ اب کورونا کے دو مریض صحتیاب ہوچکے ہیں اور انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں سب سے زیادہ 7 ہزار ہلاکتیں، عالمی سطح پر اموات 21 ہزار سے تجاوز

اجمل وزیر نے ڈان نیوز کو بتایا کہ بونیر کی ایک خاتون اور پشاور کے پولیس سروسز ہسپتال میں زیر علاج ضلع خیبر کے رہائشی صحتیاب ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ہسپتالوں میں رہائش پذیر دیگر مریضوں کا علاج جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے شالوبار میں 29 سالہ عادل رحمٰن کورونا وائرس کے سبب 14دن قرنطینہ میں گزارنے کے بعد اب صحتیاب ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1118 تک جاپہنچی

عادل خیبر پختونخوا میں کورونا سے صحتیاب ہونے والے پہلے مریض ہیں اور انہیں بدھ کو پولیس سروس ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا جہاں انہیں 14دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

عادل نے بتایا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ وائرس کیسے لگا، مجھے صرف بخار اور بدن میں شدید درد ہو رہا تھا۔

ان کا ابتدائی طور پر گھر میں علاج کیا گیا البتہ بگڑتی ہوئی صحت کے سبب انہیں علاج اور تشخیص کے لیے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

انہوں نے خود سے علاج کے باوجود صحتیاب نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن بعد نجی ہسپتال والوں نے انہیں بلایا اور ایک ایمبولینس میں ڈال کر پولیس سروسز ہسپتال منتقل کردیا۔

مزید پڑھیں: انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 166 روپے تک پہنچ گئی

عادل نے بتایا کہ دوبارہ ٹیسٹ کرنے پر بھی کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا، یہ خبر مجھ پر کسی بم کی مانند گری اور مجھے لگنے لگا کہ اب شاید میں کبھی بھی نارمل زندگی کی طرف نہیں لوٹ سکوں گا۔

صحتیاب ہونے والے خوش نصیب مریض نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں گلے میں سوزش اور سینے میں درد محسوس ہوا جس کے بعد سانس لینے میں دشواری ہونے لگی لیکن ڈاکٹروں نے بہت دیکھ بھال کی جس کی بدولت ہر گزرتے دن کے ساتھ حالت سنبھلنے لگی۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں داخل ہونے کے 12ویں دن ڈاکٹرز نے بتایا کہ میرا کورونا کا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور جب ڈاکٹرز نے مجھے بتایا کہ مجھے کورونا نہیں ہے تو میں آپ کو اپنے جذبات الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

عادل کا کہنا تھا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور کورونا سے لڑنے کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مکمل ہمت کے ساتھ اس سے مقابلہ کریں اور علاج اور قرنطینہ کے دوران مکمل قوت کے ساتھ کا مقابلہ کریں۔

تاہم ساتھ ساتھ انہوں نے یہ خبردار کیا کہ کورونا وائرس کو آسان تصور نہیں کرنا چاہیے اور ایک شخص کو احتیاطی تدابیر اور ہدایات پر عمل کے لیے ان کے محافظ کے طور پر کھڑا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کچھ ممالک کے لوگ ماسک پہن رہے ہیں اور کچھ میں نہیں، ایسا کیوں؟

پولیس سروسز ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ڈان نیوز کو بتایا کہ 50سال سے زائد عمر کے افراد کا وائرس کی زد میں آنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے کیونکہ وہ دیگر مختلف بیماریوں کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اکثر آبادی کی عمر 20-35 سال کے درمیان ہے اور ان کی قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ متاثرہ افراد میں سے اکثر میں ابتدائی تین سے چار دن کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بیماری کا شکار ہونے کے باوجود لوگوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے اور اس کا بروقت علاج سب سے اہم ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد ایک ماہ کے دوران یہ تعداد 1118 تک پہنچ گئی جبکہ اس سے 8 اموات بھی ہوئیں۔

دوسری جانب وائرس سے متاثرہ افراد جو صحتیاب ہوئے ان کی تعداد 21 ہوچکی ہے۔

صوبوں کی بات کی جائے تو صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 26 مارچ کی شام تک 421، پنجاب میں 335، بلوچستان میں 131 اور خیبرپختونخوا میں 121، گلگت بلتستان 84 اسلام آباد 25 اور آزاد کشمیر مین ایک کیس سامنے آیا تھا۔