کورونا وائرس لاک ڈاؤن، شادی شدہ جوڑے کس طرح جھگڑے روکیں؟

01 اپريل 2020

ای میل

تھوڑی سی سمجھداری سے معاملات حل ہو سکتے ہیں—فوٹو: آئی اسٹاک
تھوڑی سی سمجھداری سے معاملات حل ہو سکتے ہیں—فوٹو: آئی اسٹاک

چین میں تقریباً 2 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے سخت لاک ڈاؤن کے بعد جب معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تو کچھ شہروں کے شادی و طلاق دفاتر میں علحیدگی کے لیے درخواستین دائر کرنےے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

ژیان شہر کے سرکاری اہلکار وینگ کے مطابق اس کی وجہ مسلسل ایک ساتھ رہنے کے باعث ابھر کر سامنے آنے والے فطری اور لاشعوری مسائل ہیں۔

اگرچہ چین سے آنے والی ایسی خبروں کو زیادہ تر ممالک میں ایک لطیفے کے طور پر لیا جا رہا ہے لیکن اپنے ارد گرد نگاہ دوڑانے سے آپ یہ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور تجارتی مقاصد کے لیے باہر نکلنے والے افراد مسلسل گھر میں رہنے سے کس قسم کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

ایسے افراد لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں ذہنی و جذباتی تناؤ سمیت چھوٹی سی چھوٹی چیز پر سخت رد عمل دینے کا شکار بن رہے ہیں اور ایسے افراد کے گھروں میں عام طور پر میرے کپڑے کس نے پھیلائے، یہ گندگی کیوں پھیلی ہوئی ہے، شور کیوں مچایا ہوا ہے، کھانا تو ڈھنگ سے بنا لیا کرو، ہر وقت فون میں کیوں لگے رہتے/لگی رہتی ہو اور جب دیکھو، بستر پر پڑی/پڑے رہتے ہو جیسی باتیں سنائی دینے لگی ہیں۔

عام حالات میں جس بات پر ہمارا ذہن توجہ بھی نہیں دیتا تھا وہ اب غیر فطری طور پر بڑی اور 'زہریلی' لگ رہی ہیں، مسلسل ساتھ رہنے، نظر آنے اور خاموش کشیدگی کے باعث نوبت طلاق تک نہ بھی پہنچے، تب بھی لفظی جنگ، بحث اور بات چیت بند ہونے تک پہنچنا عام سا مشاہدہ ہے۔

اگر آپ اپنے گھر، تعلق اور بچوں کے مستقبل کو پرسکون اور خوشگوار رکھنا چاہتے ہیں تو چند درج ذیل سادہ سی تدابیر بہت فائدہ مند رہیں گی۔

فراغت سے بچاؤ کے لیے سرگرمیوں کی ترتیب

ہمارے ذہن میں موجود 85 ارب نیورون کے نیٹ ورک سے ہمارا پورا جسم کام کر رہا ہوتا ہے۔ ماحول میں بدلاؤ اس نیٹ ورک میں تبدیلی کی وجہ بنتا ہے جس سے ہمارا پورا نظام تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ قدرت نے اس نیٹ ورک کو صورتحال کے مطابق تیزی سے تبدیل ہونے کی بھی صلاحیت دی ہے, بشرط یہ کہ آپ تبدیل ہونا چاہیں، ایک مصروفیت سے بھرپور زندگی کے بعد لاک ڈاؤن کی زندگی میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے گھریلو سرگرمیوں کا اسٹرکچر بنانا مفید رہے گا جیسے، کسی وقت کچن کا کام کرنا ہے؟ کس وقت پروفیشنل کام کرنا ہے؟کتنا وقت اپنے شوہر/ بیوی یا اہل خانہ سے بات چیت میں گزارنا ہے؟ گھر کے دیگر افراد (جیسے ساس، سسر، نند، دیور وغیرہ) سے کب اور کیسے بات کرنا مناسب رہے گا؟ کب بات کرنا مسئلے کا سبب بنے گی؟ کس وقت بات کرنا خوشگوار ہے اور کس وقت تناؤ کا سبب؟ کس وقت گھر کی صفائی کرنی ہے؟ موبائل یا انٹرنیٹ کے ذریعے کس وقت کس دوست، رشتے دار، بہن و بھائی وغیرہ سے بات کرنی ہے؟ دن میں کتنی دفعہ سونا ہے؟ کن اوقات میں سونا ہے؟ اور ذہن کو پرسکون (عبادت، روحانی سرگرمیاں، مفید ویڈیوز/لیکچرز وغیرہ)کرنے والی سرگرمیاں کیا ہیں اور یہ کہ انہیں کب کرنا چاہیے؟

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: لاک ڈاؤن اور تعطیلات کے دوران والدین کیا کریں؟

اور اس جیسی بیشتر چیزوں کو ایک ترتیب میں کرنے سے آپ کے ذہن کا نیٹ ورک مصروف رہے گا اور شریک حیات کی جانب سے ملنے والی منفی توانائی اور تناؤ کافی حد تک قابو میں رہے گا۔

ذاتی مسئلے کو باہمی مسئلہ نہ بنائیں

گھر کے بیشتر مسائل اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی ذاتی غلطیوں کو دوسروں پر تھونپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثلا آپ کچن صاف نہیں کر پارہیں تو آپ اس کا الزام بچوں کے شور شرابے پر رکھ دیں گی، آپ باہر سے سودا نہیں لا پا رہے تو آپ اس کو چھپانے کے لیے اپنی بیوی پر چڑھ دوڑیں گے۔

ذاتی مسئلے کو باہمی مسئلہ بنانے کا نتیجہ پورے گھر کو بھگتنا پڑتا ہے، ذاتی مسئلے کو کسی اور فرد پر تھوپ کر تیار رہیں کہ اس کا ردعمل بھی آئے گا۔

ذاتی گنجائش (Personal Space) لیں اور دیں

ہر فرد کو تنہا وقت اور جگہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی ذہنی اور جذباتی توانائی کو بحال کر سکے۔

آپ خود بھی ذاتی گنجائش کو لیں، اپنے شریک حیات کو اس سے آگاہ کریں، پھر یہی گجنائش اس کے لیے بھی پیدا کریں، تنہا سوچ بچار، ذکر و اذکار یا بس ذہن کو خالی کرنے کی کوشش سے ہم ایک محدود سی جگہ پر مسلسل رہنے کی ہمت حاصل کر سکتے ہیں۔

صبر اور نظر انداز کرنا

کسی بھی تناؤ والی بات، واقعے اور جھگڑے کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے درج ذیل دو طریقے ہمیشہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

1۔ نظر انداز کرنے کی اہمیت

جو واقعہ یا بات ہوئی ہے اس کی اپنی زندگی میں اہمیت پر غور کریں، مثلا شریک حیات نے کس بات پر ٹوکا ہے تو سوچیں کیا اس کے ٹوکنے سے میری زندگی کی قدرو قیمت کم ہوئی؟ اہمیت کم ہوئی؟ عموماً زیادہ تر ٹوکنا، ڈانٹنا، طنز کرنا عادتًا یا بغیر کسی بری نیت کے ہوتا ہے، اس کا سادہ سا حل اپنے ذہن کو اسے نظر انداز کرنے کی تربیت دینا ہے۔

2 ۔ صبر کی ڈھال

بعض اوقات واقعتاً مسئلہ حقیقی اور تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے باہر نکل سکتے ہیں نہ کسی کھلی جگہ پر جا سکتے ہیں تو اس موقع پر صبر کی ڈھال کو اپنے ذہن سے لے کر اپنی پیروں کی انگلیوں تک پہن لیں۔

تکلیف، اذیت اور مشکل کو تحمل سے برداشت کرنے کی استعداد پیدا کریں،اس کی علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسے کسی موقع پر انسان شکوہ یا رونے دھونے سے رکے رہتا ہے۔


فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔