کورونا وائرس: امریکا میں ہلاکتیں 5 ہزار سے زائد، متاثرین سوا 2 لاکھ سے متجاوز

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

امریکا کی ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہے—فوٹو: رائٹرز
امریکا کی ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہے—فوٹو: رائٹرز

کورونا وائرس کے نئے مرکز اور دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ملک امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 884 ہلاکتیں ہونے کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ وہاں ایک ہی دن میں 25 افراد وبا کا شکار بھی بنے۔

امریکی ماہرین نے یہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ امریکا میں کورونا کے متاثرین کی تعداد لاکھوں تک جا سکتی ہے جب کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی گزشتہ ماہ مارچ کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ وبا کا نیا مرکز امریکا ہو سکتا ہے۔

اس وقت صرف امریکا میں وائرس متاثرین افراد کی تعداد ایشیا کے تمام بڑے متاثرہ ممالک کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے، اگر چین، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان، افغانستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، سنگاپور، سری لنکا، جاپان اور بنگلہ دیش کے متاثرہ افراد کی تعداد بھی ملائی جائے تو بھی ان ممالک کے متاثرہ افراد کی تعداد امریکا سے کم ہوگی۔

کورونا وائرس سے متعلق عالمی اداروں کے آن لائن میپ کے مطابق امریکا میں 2 اپریل کی صبح تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 16 ہزار سے زائد ہوچکی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 5 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا میں یکم اپریل سے 2 اپریل کی صبح تک 24 گھنٹوں کے دوران پہلی بار ریکارڈ 884 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اسی عرصے کے دوران ریکارڈ 25 ہزار نئے افراد وبا کا شکار بھی بنے۔

نیویارک کے کیسز چین سے بھی زیادہ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے کورونا وائرس سے متعلق آن لائن میپ کے مطابق صرف امریکی ریاست نیویارک کے کورونا سے متاثرین افراد کی تعداد مجموعی طور پر کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین سے زیادہ ہوگئی۔

چین میں 2 اپریل کی صبح تک تمام متاثرہ افراد کی تعداد 82 ہزار 400 تک تھی، جس میں سے 3100 افراد ہلاک جب کہ 98 فیصد افراد صحت مند ہوچکے تھے۔

لیکن 2 اپریل کی صبح تک امریکا کی ریاست نیویارک میں ہی کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 83 ہزار 900 کے قریب تک جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 1900 سے زائد ہوچکی تھی۔

نیویارک میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 427 افراد کورونا کا شکار ہیں جب کہ وہاں ہر ایک لاکھ افراد پر 9 افراد کورونا سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

کورونا سے متاثرہ دوسری بڑی ریاستیں

نیویارک کے بعد کورونا سے متاثرہ دوسری بڑی ریاست نیو جرسی ہے جہاں پر 2 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 355 تک جا پہنچی تھی۔

نیوجرسی میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 250 افراد کورونا کا شکار بن رہے ہیں اور وہاں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 4 افراد کورونا سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

کورونا کے حوالے سے امریکا کی تیسری بڑی متاثرہ ریاست کیلی فورنیا ہے، جہاں پر 2 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد 10 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 212 سے تجاوز کر چکی تھی۔

کیلی فورنیا میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 25 افراد کورونا سے متاثر ہو رہے ہیں جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت سست ہے اور ہر ایک لاکھ میں سے صرف ایک شخص کی ہلاکت سامنے آئی ہے۔

کیلی فورنیا کے بعد ریاست مشی گن ہے، جہاں پر کورونا کے مریضوں کی تعداد بھی 9 ہزار سے زائد ہے، ریاست فلوریڈا اور میساچوٹس میں مریضوں کی تعداد ترتیب وار 7 ہزار سے زائد ہے، ریاست الینوائے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد7 ہزار کے قریب جب کہ لوویزیانا میں مریضوں کی تعداد 6 ہزار سے زائد تک جا پہنچی تھی۔

امریکا کی حالت اٹلی جیسی ہوسکتی ہے، نائب صدر

نائب صدر کے مطابق لوگ عبادات کے لیے بھی گھر سے نہ نکلیں — فوٹو: اے پی
نائب صدر کے مطابق لوگ عبادات کے لیے بھی گھر سے نہ نکلیں — فوٹو: اے پی

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز اور اموات کے بعد عوام کو گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کی حالات ہلاکتوں کے حوالے سے اٹلی جیسی ہو سکتی ہے۔

مائیک پینس نے ایک ٹی وی پروگرام میں لوگوں کو کہا کہ مذہبی عبادات کے لیے چرچ بھی نہ جائیں جب کہ کسی بھی جگہ 10 سے زائد افراد جمع نہ ہوں۔

پروگرام میں نائب صدر نے کہا کہ وہ بھی مذہبی عبادات پر یقین رکھتے ہیں تاہم مشکل کی اس گھڑی میں وہ گھر میں رہ کر اپنی اہلیہ کے ہمراہ آن لائن عبادات میں شریک ہیں اور لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

مائیک پینس کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے مزید احتیاط نہ کی تو امریکا میں بھی اٹلی کی طرح ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

امریکا میں 2 لاکھ 40 ہزار ہلاکتیں ہو سکتی ہیں، ماہرین

دوسری جانب امریکا میں ہلاکتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ماہرین نے نئے اندازے لگائے ہیں اور بتایا ہے کہ اگر اموات کی شرح یوں ہی جاری رہی تو صرف امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار تک جا سکتی ہے۔

شکاگو ٹربیون کے مطابق کورونا وائرس کی وبا پر کام کرنے والے امریکا کے ٹاپ سائنسدانوں کی ٹیم نے ملک میں حالیہ اموات کی شرح کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا ہے کہ امریکا میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے 2 لاکھ 40 ہزار تک ہو سکتی ہیں۔

امریکا میں اموات 2 لاکھ 40 ہزار تک جا سکتی ہیں—فوٹو: شکاگو ٹربیون
امریکا میں اموات 2 لاکھ 40 ہزار تک جا سکتی ہیں—فوٹو: شکاگو ٹربیون