کورونا وائرس: ملک میں 2419 افراد متاثر، 34 اموات، 100 سے زائد صحتیاب

ای میل

ملک میں کورونا کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
ملک میں کورونا کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر اور ہزاروں کے لیے جان لیوا ثابت ہونے والا کورونا وائرس پاکستان میں بھی اپنے پھیلاؤ کو بڑھا رہا ہے اور ملک میں مزید نئے کیسز کے بعد تعداد 2 ہزار 419 تک پہنچ گئی جبکہ ابھی تک 34 افراد بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ملک میں اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ پنجاب متاثر ہوا ہے جہاں مریضوں کی تعداد 920 تک پہنچ چکی ہے، اس کے بعد سندھ کا نمبر ہے اور وہاں 761 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 311 افراد وائرس سے متاثر ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 169 ہے، مزید یہ کہ گلگت بلتستان میں بھی 187 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 62 ہے جبکہ آزاد جموں کشمیر میں 9 افراد میں اس عالمی وبا کی تشخیص ہوئی۔

اس وائرس سے گزشتہ روز بھی 5 اموات ریکارڈ کی گئیں جس کے بعد ملک میں مجموعی اموات 31 تک پہنچی تھی تاہم آج سندھ میں مزید 2 اموات جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک موت کی تصدیق کردی گئی۔

ان 34 افراد میں پنجاب سے 11، سندھ سے 11، خیبرپختونخوا سے 9، گلگت بلتستان سے 2 اور بلوچستان سے ایک مریض کا انتقال ہوا۔

تاہم جہاں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں صحتیاب ہونے والی مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور اب تک 107 افراد اس وائرس سے جنگ جیت چکے ہیں۔

2 اپریل کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ابھی تک سندھ میں 2 اموات اور نئے کیسز، خیبر پختونخوا میں ایک موت اور نئے کیسز جبکہ پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں نئے کیسز دیکھنے میں آئے۔

سندھ

سندھ کی وزیر صحت و بہبود آباد ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سندھ میں کورونا وائرس سے 2 مریضوں کے انتقال کی تصدیق کردی۔

اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 65 سالہ شخص ٹنڈو محمد خان کا رہائشی تھا جسے 28 مارچ کو حیدر آباد کے ہسپتال میں لایا گیا تھا جہاں ان کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد علاج جاری تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ فرد تبلیغی جماعت کا رکن تھا اور اسے ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) کا مرض بھی لاحق تھا اور وہ ویٹی لیٹر پر تھا۔

جاں بحق ہونے والے دوسرے شخص سے متعلق ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ 86 سالہ مریض کا تعلق کراچی سے تھا، مریض میں یکم اپریل کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور ان میں وائرس سماجی رابطے کے ذریعے منتقل ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مریض کو بلڈ پریشر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس موت کے بعد سندھ میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 11 ہوگئی۔

یہاں یہ واضح رہے کہ سندھ میں ہونے والی ان 11 اموات میں سے 10 کراچی میں ہوئیں ہیں جبکہ ملک میں سب سے زیادہ شہر قائد ہی متاثر ہوا ہے جہاں کیسز کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔

علاوہ ازیں سندھ میں مزید 34 کیسز سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 741 تک پہنچ گئی۔

محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کورآرڈینیٹر میران یوسف نے بتایا کہ 2 اپریل کی صبح 4.30 بجے آنے والے کیسز میں 17 کیسز کراچی، 9 حیدر آباد، 6 بینظیرآباد اور 2 جامشورو میں سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تمام کیسز مقامی طور پر منتقلی کے ہیں، جس کے بعد سندھ میں مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز کی تعداد 410 ہوگئی۔

بعد ازاں میران یوسف نے صوبے میں مزید 20 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 761 ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ نئے کیسز میں سے 12 کراچی اور 8 سکھر میں زائرین میں سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید 2 مریض صحتیاب بھی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ میں مقامی طور پر منتقلی کے علاوہ دیگر کیسز تفتان سے آنے والے زائرین یا بیرون ملک سے آنے والے افراد کے ہیں۔

پنجاب

دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے صوبے میں مزید 61 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 914 ہوگئی۔

ترجمان محکمہ صحت پنجاب قیصر آصف نے کے مطابق اب تک پنجاب میں 11 افراد انتقال کرچکے ہیں جس میں لاہورسے 5، راولپنڈی سے 4، فیصل آباد اور رحیم یار خان سے ایک ایک مریض شامل ہے۔

صوبے میں متاثرین کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا کہ ڈی جی خان میں 213، ملتان 91، رائے ونڈ قرنطینہ مرکز میں 142 اور فیصل آباد قرنطینہ میں 5 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

اس کے علاوہ محکمہ صحت کے مطابق لاہور میں 199، راولپنڈی میں 53، گجرات میں 90 کیسز ہیں جبکہ باقی کیسز پنجاب کے دیگر علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے مزید 6 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 920 ہوگئی ہے۔

اسلام آباد

سرکاری سطح پر اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مزید 8 کیسز رپورٹ کیے گئے۔

اسلام آباد میں سامنے آنے والے ان 8 کیسز کے بعد وہاں اب تک متاثرین کی تعداد 62 ہوگئی ہے۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں بھی جمعرات کو کورونا وائرس کا ایک مریض جان کی بازی ہار گیا۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ضلع بونیر میں ایک مریض کورونا وائرس کا شکار ہو کر جاں بحق ہوا جس کے بعد خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد 9 ہوگئی۔

دوسری جانب صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 37 کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد خیبر پختونخوا میں متاثرہ افراد کی تعداد 311 ہوگئی ہے۔

بلوچستان

صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کورونا وائرس سیل کے ترجمان کے مطابق بلوچستان میں جمعرات کو کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کے بعد صوبے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 169 ہوگئی ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد 2 ہزار 171 ہے۔

گلگت بلتستان

ادھر گلگت بلتستان میں بھی متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور وہاں 3 نئے کیسز کے بعد تعداد 187 تک جاپہنچی۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ گلگت بلتستان میں ہی کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر بھی اس وائرس کا شکار ہوکر انتقال کرگئے تھے۔

آزاد کشمیر

مزید برآں آزاد کشمیر میں بھی کورونا وائرس کے کیسز دیکھنے میں آئے۔

اگرچہ ابھی تک آزاد کشمیر اس وائرس سے سب سے کم متاثر ہوا ہے تاہم نئے کیسز آنےکے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 6 سے بڑھ کر 9 ہوگئی ہے۔


15 روز میں 31 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ، بلوچستان میں نماز کے اجتماعات پر پابندی

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

27 مارچ کو لاہور میں ایک اور مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئی۔

اسی روز فیصل آباد میں بھی 22 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں 5 اور ملک بھر میں اس وبا سے اموات 11 ہوگئیں۔

28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 12 ہوگئی۔

29 مارچ کو ملک میں 5 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، وزیرصحت سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ 2 افراد کے انتقال کی تصدیق کی، دوسری طرف خیبر پختونخوا میں محکمہ صحت کے عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگیا۔

علاوہ ازیں پنجاب میں بھی ایک اور موت ہوئی جو اس روز کی چوتھی جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کی چھٹی ہلاکت تھی، بعد ازاں گلگت بلتستان سے بھی ایک اور فرد کی موت کی تصدیق ہوئی جو اس روز کی پانچویں موت تھی، اس بارے میں بتای گیا کہ ایک میڈیکل اسٹافر کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگیا۔

30 مارچ اب تک ملک کی تاریخ میں اموات کے حساب سے سب سے برا دن ثابت ہوا اور ایک روز میں 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

ماہ مارچ کے آخری روز بھی 2 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے اور اموات کی تعداد 26 تک پہنچ گئی۔

یکم اپریل کو بھی ملک میں 5 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس سے یہ تعداد 31 ہوگئی جبکہ متاثرین کی تعداد 2238 تک جا پہنچی۔

پاکستان میں کورونا وائرس

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی۔

  • 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور بلوچستان سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔

  • مارچ کی 24 تاریخ کو پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آئی جو ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والا کیس تھا، اس کے علاوہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس روز تک متاثرین 990 ہوگئے تھے۔

  • 25 مارچ کو پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1078 ہوگئی جبکہ اس روز بھی ملک میں ایک اور موت سامنے آئی جس کے بعد ملک میں اموات 8 ہوگئیں۔

  • 26 مارچ کو ملک میں کورونا کیسز کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوا اور اس روز پورے ملک میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 1193 تک پہنچی جبکہ اس روز بھی ایک اور فرد انتقال کرگیا۔

  • 27 مارچ ملک کو کورونا وائرس سے پنجاب میں 2 اموات سامنے آئیں جبکہ اس روز پنجاب میں مزید نئے کیسز آنے سے وہ سب سے زیادہ متاثر صوبہ بن گیا، علاوہ ازیں ملک کی مجموعی تعداد 1363 تک پہنچ گئی

  • 28 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور تعداد 1500 تک پہنچ گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک موت کی بھی تصدیق کی گئی۔

  • پاکستان میں 29 مارچ کورونا وائرس سے اموات کے حوالے سے سب سے برا ثابت ہوا اور ایک روز میں 5 اموات سامنے آئیں جبکہ متاثرین کی تعداد بھی 1593 تک پہنچ گئی۔

  • 30 مارچ کو سندھ میں مزید 3 اموات اور مزید 6 کیسز، پنجاب میں 3 اموات اور مزید 45 کیسز، اسلام آباد میں مزید 8 کیسز، خیبرپختونخوا میں مزید ایک شخص کا انتقال اور مزید 29 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اسی طرح بلوچستان میں مزید 11 کیسز جبکہ گلگت میں مزید 12 کیسز رپورٹ ہوئے، یوں ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1776 ہوگئی۔

  • 31 مارچ کو ملک میں 231 نئے کیسز آنے سے تعداد 2007 تک پہنچی جبکہ اسی روز کراچی میں مزید 2 افراد وائرس سے انتقال کرگئے جس کے بعد اموات 26 ہوگئیں۔

  • یکم اپریل کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے 200 سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے اور یہ تعداد 2 ہزار 238 تک پہنچ گئی اور 5 مزید اموات سے تعداد 31 ہوگئی۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں