دنیا بھر میں کورونا وائرس کےکیسز کی تعداد 10 لاکھ سے متجاوز، ہلاکتیں 50ہزار سے زائد

اپ ڈیٹ اپريل 03 2020

ای میل

مایر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔ - فائل فوٹو:رائٹرز
مایر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔ - فائل فوٹو:رائٹرز

امریکا میں ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ ہونے کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ہلاکتیں 50 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس وبا کی معاشی لاگت دن بدن بڑھ رہی ہے، نئے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ہفتے 66 لاکھ 50ہزار امریکیوں نے بے روزگاری سے فائدہ اٹھانے کی اسکیم پر اندراج کرایا تھا جبکہ مارچ کے آخری 2 ہفتوں میں ملازمت سے محروم افراد کی تعداد ایک کروڑ ہوگئی۔

ساتھ ہی ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔

پینتھن میکرو اکنامکس کے آئین شیفرڈسن کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہیں‘۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے ہلاکتیں اندازوں سے کم ہیں، تحقیق

ان کا کہنا تھا کہ ’مارچ اور اپریل کے درمیان ملازمت سے نکالنے جانے والوں کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے‘۔

ادھر مالیاتی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پیش گوئی کی کہ امریکا اور یورپ کی معیشت، کاروبار پر اثرات سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے سے صارفین کے خرچ میں کمی کی وجہ سے 30 فیصد تک سکڑ جائے گی۔

وہیں دوسری جانب عالمی رہنماؤں نے بحران سے نمٹنے کے لیے بڑی امداد اور پیکجز کا اعلان کیا ہے اور عالمی بینک نے 15 ماہ میں ایک کھرب 60 ارب روپے کا ایمرجنسی کیش جاری کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

امریکا جو دنیا بھر میں کیسز کا ایک تہائی حصہ رکھتا ہے، وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پھیلی وبا سے تقریباً 6 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو رہی۔

وائٹ ہاؤس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ سے 2 لاکھ 40 ہزار امریکی اس مرض سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔

اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈیزاسٹر رسپانس ایجنسی فیما نے امریکی فوج سے لاشوں کو رکھنے کیلئے ایک لاکھ بیگز منگوالیے ہیں۔

مزید برآں امریکی میں اس صورتحال کے بعد 85 فیصد امریکی کسی نا کسی طرح تک گھروں میں رہنے کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔

امریکا میں وبا کے مرکز نیو یارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے عوام سے باہر نکلتے وقت اپنے چہرے ڈھانپنے کی اپیل کی جبکہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ عوام کے لیے ماسک کے استعمال پر ایک دو روز میں تجاویز جاری کردی جائیں گی۔

اسپین میں تعداد میں کمی

واضح رہے کہ کئی ہفتوں تک اس بحران کا مرکز رہنے والے یورپ میں اب ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں کہ وہاں یہ وبا چوٹی کو چھوچکی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو اسپین میں 950 اور برطانیہ میں 569 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔

ادھر اٹلی اور اسپین کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ وہاں اب تک دنیا میں ہونے والی اموات کی نصف تعداد ہلاک ہوئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا تھا کہ اب نئے انفیکشننز کی تعداد دونوں ممالک میں کم ہورہی ہے۔

اسپین کے وزیر صحت سلواڈورالا کا کہنا تھا کہ ’ڈیٹا میں دیکھا گیا کہ صورتحال اب مستحکم ہورہی ہے اور وبا سست روی کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے‘۔

وائرس سے سب سے زیادہ بزرگ شہری یا پھر وہ جنہیں پہلے سے کوئی بیماری ہو، متاثر ہوئے ہیں تاہم حالیہ کیسز میں چند ہلاکتیں نوجوانوں کی بھی دیکھی گئیں تاہم 6 ہفتوں کی ایک نوزائدہ بچی کی موت نے تمام عمر کے افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ہانس کلوگے کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے صرف بزرگ لوگوں کے متاثر ہونے کا تاثر درحقیقت غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اسپین میں پہلی بار ریکارڈ 838 ہلاکتیں

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور جوانوں میں متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے چند کو اننتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور چند ہلاک ہوگئے۔

برطانیہ

علاوہ ازیں برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جونسن نے ٹیسٹنگ کو بڑی تعداد میں بڑھانے پر زور دیا جبکہ ان کے وزیر صحت نے ایک ہفتے میں ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا۔

بورس جونسن جو خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے انہیں حال ہی میں اس وبا کو پھیلنے سے روکنے میں حکومت کی ناکامی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

روس

دریں اثنا روس میں کیسز کی تعداد ساڑھے 3 ہزار تک پہنچنے پر وہاں کے صدر ولادمیر پیوٹن نے اپریل کے آخر تک ادائیگی کے ساتھ کام نہ کرنے کے ایام میں اضافہ کردیا۔

یہاں یہ واضح رہے کہ روس کے زیادہ تر علاقے اس وقت لاک ڈاؤن میں ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین ترین سخت اقدامات اٹھانے والا ملک تھائی لینڈ ہے جہاں جمعے سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔