کورونا وائرس: پنجاب میں ایک ہزار سے زائد کیسز، مجموعی اموات 40 ہوگئیں

ای میل

ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کورونا وائرس کے خلاف جنگ مین فرنٹ لائن پر موجود ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کورونا وائرس کے خلاف جنگ مین فرنٹ لائن پر موجود ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے آج 3 اپریل کو مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 2 ہزار 686 ہوگئی جبکہ اب تک 40 افراد اس وائرس سے انتقال کرچکے ہیں۔

گزشتہ روز یعنی 2 اپریل کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید 181 کیسز اور 3 اموات ریکارڈ کی گئیں جس میں 2 افراد سندھ اور ایک کا انتقال خیبرپختونخوا میں ہوا تھا۔

26 فروری کو پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا جس کے بعد اس عالمی وبا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں جمعہ کو 12 سے ساڑھے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

اس وقت پنجاب اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد 1069 ہوگئی ہے، اس کے بعد سندھ ہے جہاں آج کے نئے کیسز کے بعد تعداد 830 تک جا پہنچی ہے۔

خیبرپختونخوا بھی اس وائرس سے کافی متاثر ہوا اور وہاں 343 افراد اس کا شکار ہوئے جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 175 ہے۔

اسی طرح اسلام آباد میں 68 ، گلگت بلتستان میں 190 اور آزاد کشمیر میں 11 لوگ اس مہلک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

ملک میں اس وائرس سے ہونے والی اموات کو دیکھیں تو سندھ میں سب سے زیادہ 14 لوگ انتقال کرچکے ہیں جبکہ پنجاب میں 11، خیبرپختونخوا میں 11، گلگت بلتستان میں 3 اور بلوچستان میں ایک فرد جان کی بازی ہار چکا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ میں ہونے والی ان 14 میں سے 12 اموات کراچی میں جبکہ 2 اموات حیدر آباد میں ہوئیں۔

ایک طرف جہاں اموات اور کیسز ہیں تو دوسری طرف وہ 126 صحتیاب مریض بھی ہیں جنہوں نے اس وائرس کے خلاف جنگ جیتی اور مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔

آج کے کیسز کی بات کریں تو سندھ میں دو اموات اور کیسز، پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں مزید کیسز سامنے آئے جبکہ 24 گھنٹوں کے دوران گلگت میں ایک اور موت کی تصدیق کردی گئی۔

سندھ

محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کورآرڈینیٹر میران یوسف نے بتایا کہ 22 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے کے کیسز کی مجموعی تعداد 783 ہوگئی ہے۔

انہوں نے کیسز کی تفصیلات کے بارے میں بتایا کہ کراچی میں 6، حیدرآباد میں 14 اور گھوٹکی میں تبدیلی جماعت سے مقامی طور پر منتقل ہونے والے 2 نئے کیس کی تصدیق ہوئی۔

ان نئے کیسز کے بعد سندھ کی مجموعی تعداد کو اگر شہروں کے حساب سے دیکھیں تو کراچی اس وقت 342 کیسز کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد حیدر آباد میں 151، شہید بینظیر آباد میں 6، گھوٹکی میں 2، دادو اور جیکب آباد میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

مزید برآں سکھر میں 273 اور لاڑکانہ میں 7 کیسز ایسے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔

بعد ازاں میران یوسف نے مزید 47 کیسز کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے کیسز میں سے 38 کراچی، 5 ٹنڈو محمد خان، ایک حیدر آباد، 2 جامشورو اور ایک بدین میں سامنے آیا۔

اس اضافے کے بعد سندھ میں متاثرین کی تعداد 830 ہوگئی جن میں 438 کیسز ایسے ہیں جو مقامی طور پر منتقل ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ میں مزید 3 اموات کی تصدیق کردی گئی جس کے بعد صدبے میں وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 14 ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کورآرڈینیٹر میران یوسف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کراچی میں 2 اموات کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ مریضوں کی عمر 82 اور 60 سال تھی اور دونوں مریضوں میں یکم اپریل کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جبکہ یہ مقامی طور پر منتقلی کے کیسز تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ 60 سالہ مریض کو دل کی بیماری تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے جبکہ 82 سالہ مریض کو گردوں کے مسائل کا سامنا تھا۔

بعد ازاں عذرا پیچوہو نے حیدر آباد میں کورونا سے ایک اور ہلاکت کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ 54 سالا شخص کو 3 اپریل کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی بعد زیر علاج رکھا گیا تاہم مریض ذہنی مسائل اور قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا۔

پنجاب

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی کورونا وائرس کے 8 نئے کیسز سامنے آئے۔

محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان قیصر آصف نے صوبے میں نئے کیسز کے بعد 928 مصدقہ کیسز ہیں جبکہ اب تک 11 افراد انتقال کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نئے مریض لاہور میں سامنے آئے جس کے بعد شہر میں متاثرین 204 ہوگئے، اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان سے 213، ملتان سے 91، رائے ونڈ قرنطینہ سے 142 اور فیصل آباد قرنطینہ سے 5 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

ترجمان کے مطابق متاثر ہونے والے دیگر افراد کا تعلق صوبے کے باقی علاقوں سے ہے۔

بعد ازاں انہوں نے صوبے میں مزید 84 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد ایک ہزار عبور کرکے 1012 ہوگئی۔

جند گھنٹے بعد ترجمان نے پنجاب میں 57 نئے کیسز سامنے آنے کا بتایا جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1069 ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے کیسز میں کیمپ جیل لاہور کے 3 قیدی بھی شامل ہیں جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اسلام آباد

ادھر اسلام آباد میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

سرکاری سطح پر اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں 6 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 68 ہوگئی۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز نے کورونا وائرس کے مزید 32 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 343 ہوگئی۔

ڈائریکٹوریٹ نے سوات اور مانسہرہ میں 2 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی۔

بلوچستان

ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کورونا وائرس سیل بلوچستان کے ترجمان نے صوبے میں آج مزید 6 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 175 ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 2 ہزار 401 ہے۔

گلگت بلتستان

انہیں اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی 3 نئے کیسز آئے اور وہاں متاثرین کی تعداد 190 تک پہنچ گئی۔

قبل ازیں گلگت بلتستان کی حکومت نے نوول کورونا وائرس سے مزید ایک افراد کی موت کی تصدیق کی تھی۔

اس حوالے سے ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ضلع استور میں ایک مصدقہ بزرگ کیس کی موت کے بعد وہاں اموات کی تعداد 3 تک پہنچ گئی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں 8 مصدقہ کیسز کے دوبارہ کیے گئے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

آزاد کشمیر

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو آزاد جموں و کشمیر میں بھی کورونا وائرس کے مزید 2 نئے کیسز سامنے آئے۔

اس طرح وادی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

16 روز میں 35 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ، بلوچستان میں نماز کے اجتماعات پر پابندی

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

27 مارچ کو لاہور میں ایک اور مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئی۔

اسی روز فیصل آباد میں بھی 22 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں 5 اور ملک بھر میں اس وبا سے اموات 11 ہوگئیں۔

28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 12 ہوگئی۔

29 مارچ کو ملک میں 5 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، وزیرصحت سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ 2 افراد کے انتقال کی تصدیق کی، دوسری طرف خیبر پختونخوا میں محکمہ صحت کے عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگیا۔

علاوہ ازیں پنجاب میں بھی ایک اور موت ہوئی جو اس روز کی چوتھی جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کی چھٹی ہلاکت تھی، بعد ازاں گلگت بلتستان سے بھی ایک اور فرد کی موت کی تصدیق ہوئی جو اس روز کی پانچویں موت تھی، اس بارے میں بتای گیا کہ ایک میڈیکل اسٹافر کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگیا۔

30 مارچ اب تک ملک کی تاریخ میں اموات کے حساب سے سب سے برا دن ثابت ہوا اور ایک روز میں 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

ماہ مارچ کے آخری روز بھی 2 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے اور اموات کی تعداد 26 تک پہنچ گئی۔

یکم اپریل کو بھی ملک میں 5 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس سے یہ تعداد 31 ہوگئی۔

اگلے ہی روز یعنی 2 اپریل کو سندھ میں 2 اور خیبرپختونخوا میں ایک موت کی تصدیق ہوئی جس کے ساتھ ہی اموات کی مجموعی تعداد 34 تک جا پہنچی۔

3 اپریل کو بھی ابھی تک گلگت بلتستان میں ایک مریض کے انتقال کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اموات 35 ہوگئیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی۔

  • 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور بلوچستان سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔

  • مارچ کی 24 تاریخ کو پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آئی جو ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والا کیس تھا، اس کے علاوہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس روز تک متاثرین 990 ہوگئے تھے۔

  • 25 مارچ کو پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1078 ہوگئی جبکہ اس روز بھی ملک میں ایک اور موت سامنے آئی جس کے بعد ملک میں اموات 8 ہوگئیں۔

  • 26 مارچ کو ملک میں کورونا کیسز کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوا اور اس روز پورے ملک میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 1193 تک پہنچی جبکہ اس روز بھی ایک اور فرد انتقال کرگیا۔

  • 27 مارچ ملک کو کورونا وائرس سے پنجاب میں 2 اموات سامنے آئیں جبکہ اس روز پنجاب میں مزید نئے کیسز آنے سے وہ سب سے زیادہ متاثر صوبہ بن گیا، علاوہ ازیں ملک کی مجموعی تعداد 1363 تک پہنچ گئی

  • 28 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور تعداد 1500 تک پہنچ گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک موت کی بھی تصدیق کی گئی۔

  • پاکستان میں 29 مارچ کورونا وائرس سے اموات کے حوالے سے سب سے برا ثابت ہوا اور ایک روز میں 5 اموات سامنے آئیں جبکہ متاثرین کی تعداد بھی 1593 تک پہنچ گئی۔

  • 30 مارچ کو سندھ میں مزید 3 اموات اور مزید 6 کیسز، پنجاب میں 3 اموات اور مزید 45 کیسز، اسلام آباد میں مزید 8 کیسز، خیبرپختونخوا میں مزید ایک شخص کا انتقال اور مزید 29 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اسی طرح بلوچستان میں مزید 11 کیسز جبکہ گلگت میں مزید 12 کیسز رپورٹ ہوئے، یوں ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1776 ہوگئی۔

  • 31 مارچ کو ملک میں 231 نئے کیسز آنے سے تعداد 2007 تک پہنچی جبکہ اسی روز کراچی میں مزید 2 افراد وائرس سے انتقال کرگئے جس کے بعد اموات 26 ہوگئیں۔

  • یکم اپریل کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے 200 سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے اور یہ تعداد 2 ہزار 238 تک پہنچ گئی اور 5 مزید اموات سے تعداد 31 ہوگئی۔

  • 2 اپریل کو پاکستان میں 181 نئے کیسز اور 3 اموات ریکارڈ کی گئیں جس کے بعد انتقال کرجانے والوں کی تعداد 34 جبکہ متاثرین 2419 تک پہنچ گئے۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں