گوگل کا ڈوڈل کے ذریعے ہاشم خان کو خراج تحسین

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2020

ای میل

گوگل نے ہاشم خان کو ڈوڈل کے ذریعے کراج تحسین پیش کیا— اسکرین شاٹ
گوگل نے ہاشم خان کو ڈوڈل کے ذریعے کراج تحسین پیش کیا— اسکرین شاٹ

گوگل نے اسکواش کے عظیم کھلاڑی اور پاکساتن کے لیے پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن شپ جیتنے کا رکھنے والے ہاشم خان کو ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔

ہاشم خان نے 4اپریل 1951 میں پہلی مرتبہ پاکستان کے لیے برٹش اوپن اسکواش چیمپیئن جیتی تھی جسے اس وقت ورلڈ چیمپیئن شپ کا درجہ بھی حاصل کیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسکواش کے عظیم کھلاڑی اعظم خان کورونا وائرس کے سبب جاں بحق

گوگل نے انہیں کھیلوں کی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

ہاشم خان پشاور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد برٹش آفیسرز کلب میں کام کرتے تھے اور انہیں کبھی کبھار اپنے ساتھ لے جاتے تھے، وہ کلب میں بال بوائے کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور جب افسران کھیل کر فارغ ہو جاتے تھے تو وہ ننگے پیر پریکٹس کرتے تھے۔

ڈوڈل میں ہاشم خان کو مختلف شاٹس کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

28سال کی عمر تک وہ کھیل میں پروفیشنل بن گئے تھے اور 1944سے 1946 تک بھارت کے تینوں تائٹلز جیتے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: کرسٹیانو رونالڈو کا 4 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا اعلان

تقسیم ہند کے بعد انہیں 1951 میں برٹش اوپن میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا جہاں انہوں نے پوری چیمپیئن شپ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

انہوں نے اپنے بہترین کھیل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید 5سال تک یہ چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

1957 میں وہ رنر اپ رہے لیکن 1958 میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

مزید پڑھیں: کورونا سے بچاؤ کیلئے منفرد انداز اپنانے پر سلواکیہ کی صدر کے چرچے

ہاشم خان نے اپنے کیریئر میں پانچ برٹش اوپن پروفیشنل چیمپیئن شپ ٹائٹلز، تین یو ایس اوپن اور تین کینیڈین اوپن بھی جیتے۔

اس کے بعد اگلے 46سال تک ہاشم خان کے عزیزواقارب ہی چھائے رہے جہاں 29چیمپیئن انہوں نے یا ان کے رشتے داروں نے جیتیں جس میں جہانگیر خان اور جان شیر خان سرفہرست ہیں۔

وہ 60کی دہائی میں کونگ کی دعوت پر امریکا منتقل ہو گئے تھے اور اگست 2014 میں 100سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔