کورونا سے بچاؤ کیلئے منفرد انداز اپنانے پر سلواکیہ کی صدر کے چرچے

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

زوزانے کیپتوا کا لباس اور فیس ماسک توجہ کا مرکز بن گیا—فوٹو: ریڈٹ
زوزانے کیپتوا کا لباس اور فیس ماسک توجہ کا مرکز بن گیا—فوٹو: ریڈٹ

یورپی ملک سلواکیہ میں اگرچہ کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن ہے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں تاہم ایسے حالات میں بھی وہاں نئی حکومت کی تشکیل ہوئی۔

سلواکیہ میں فروری 2020 میں عام انتخابات ہوئے تھے جس میں کسی بھی ایک پارٹی نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی جس کے بعد وہاں کی صدر 46 سالہ زوزانے کیپتوا نے 4 سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو حکومت بنانے کی پیش کش کی تھی۔

صدر کی جانب سے حکومت بنانے کی پیش کش کے بعد 21 مارچ کو وہاں حکومت کی تشکیل کی گئی اور ایک سادہ تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں منتخب ہونے والے وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور دیگر کابینہ ارکان نے حلف کے لیے شرکت کی۔

بلقان انسائٹ کی رپورٹ کے مطابق نئی حکومت کی تقریب حلف برادری انتہائی سادہ رکھی گئی تھی اور زیادہ مہمانوں کو آنے کی اجازت نہیں تھی تاہم تقریب میں کابینہ ارکان اور وزیر اعظم نے شرکت کی۔

زوزانے کیپتوا کے انداز کو دنیا بھر میں سراہا گیا—فوٹو: زوزانے ٹوئٹر
زوزانے کیپتوا کے انداز کو دنیا بھر میں سراہا گیا—فوٹو: زوزانے ٹوئٹر

نئی حکومت کے تشکیل کے لیے منعقدہ حلف برادری تقریب میں مجموعی طور پر 16 افراد نے شرکت کی، جن میں ایک خاتون صدر سمیت نئی حکومت کے وزیر اعظم اور کابینہ ارکان شامل تھے۔

جہاں مذکورہ تقریب کو سلواکیہ کی سیاسی و حکومتی تاریخ کی منفرد تقریب قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اس تقریب میں منفرد انداز میں شرکت کرنے والی وہاں کی خاتون صدر کے فیشن کی بھی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔

اگرچہ حلف برادری تقریب میں شامل ہونے والے تمام ارکان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھیں تھیں اور تمام افراد نے فیس ماسک پہن رکھا تھا تاہم صدر زوزانے کیپتوا کے انداز، لباس اور فیس ماسک کو کافی سراہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سلواکیہ کی پہلی خاتون صدر سے ملیے

صدر زوزانے کیپتوا نے حلف برادری تقریب میں میجنٹا اور پرپل رنگ کا لباس پہن رکھا تھا تاہم جس وجہ سے وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہیں، وہ ان کا فیس ماسک تھا جو ان کے لباس کے رنگ سے مشابہہ تھا۔

مختصر افراد پر مشتمل حلف برادری تقریب میں اگرچہ دیگر افراد نے بھی فیس ماسک پہن رکھے تھے مگر ان سب کے فیس ماسک صدر زوزانے کیپتوا جیسے نہیں تھے۔

صدر سب کی توجہ کا مرکز رہیں—فوٹو: رائٹرز
صدر سب کی توجہ کا مرکز رہیں—فوٹو: رائٹرز

دیگر افراد نے عام استعمال ہونے والے مڈیکل فیس ماسک پہن رکھے تھے جب کہ صدر زوزانے کیپتوا نے اپنے لباس کی میچنگ پر ہاتھ سے تیار کیا گیا فیس ماسک پہن رکھا تھا، جس وجہ سے ان کی تصاویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئیں۔

خیال رہے کہ زوزانے کیپتوا اپریل 2019 میں ملک کی صدر بنی تھیں، وہ سلواکیہ کی پہلی خاتون صدر ہیں، اس سے قبل وہ متعدد عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی تھیں۔

واضح رہے کہ 24 مارچ کی شام تک سلواکیہ میں کورونا وائرس کے کیس بڑھ کر 200 سے زائد ہو چکے تھے جب کہ وہاں احتیاطی تدابیر کے پیش نظر مزید سختیاں بھی کردی گئی تھیں۔

سلواکیہ کی طرح یورپ کے دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور یورپ کے اٹلی، اسپین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک میں کورونا کے کیس تیزی سے بڑھ رہےہیں۔

دنیا بھر میں 24 مارچ کی شام تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ کے قریب پہنچ چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر ساڑھے 16 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بھی 24 مارچ کی شام تک بڑھ کر 956 تک جا پہنچی تھی جب کہ ملک میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ کر 7 تک جا پہنچی تھی۔

زوزانے اپریل 2019 میں صدر بنی تھیں—فوٹو: سلوونسکو آن لائن
زوزانے اپریل 2019 میں صدر بنی تھیں—فوٹو: سلوونسکو آن لائن