کورونا وائرس کے دو ہفتے: فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حملے میں 78 فیصد اضافہ

04 اپريل 2020

ای میل

گزشتہ دو ہفتوں میں فلسطین پر اسرائیلی انتہا پسندوں کے حملوں میں 78فیصد اضافہ ہوا— فائل فوٹو: اے پی
گزشتہ دو ہفتوں میں فلسطین پر اسرائیلی انتہا پسندوں کے حملوں میں 78فیصد اضافہ ہوا— فائل فوٹو: اے پی

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران گزشتہ دو ہفتے میں فلسطین میں یہودی انتہا پسندی اور حملوں میں بقیہ سال کے مقابلے میں 78 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 17 سے 30 مارچ کے دوران اسرائیلی اہلکاروں اور آباد کاروں کے حملے میں 5 فلسطینی زخمی اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: پاکستان سے غزہ میں پہنچنے والے دو فلسطینی کورونا وائرس کا شکار

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2020 کے بعد ان دو ہفتوں سے متعلق لیے جانے والے جائزے کو دیکھا جائے تو اس عرصے میں جارحیت میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ نے دو واقعات کا حوالہ دیا جس میں صیہونیوں نے راملا کے قریب ام صفہ اور عین سامیہ کے گاؤں میں فلسطیونیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جہاں ان میں ایک حملے میں کلہاڑی جبکہ دوسرے میں ہتھوڑی کا استعمال کیا گیا۔

عالمی ادارے کے مطابق بکریوں کو تباس اور الخلیل میں چرانے والے دو گلہ بانوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیا گیا، ان میں سے ایک کو کتے کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ اموات انڈونیشیا میں ریکارڈ

اس کے علاوہ نبلس کے قریب واقع گاؤں میں بھی پانچ واقعات رونما ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ راملا اور الخلیل میں بھی مختلف واقعات رونما ہوئے جبکہ یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے گاڑیوں، گھروں اور اسکولوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 2018 میں یہودی آباد کاروں اور انتہا پسندوں کی جانب سے 341 حملے کیے گئے تھے اور واقعات میں واضح کمی کا عندیہ دیا گیا تھا۔

تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب لوگوں کے گھروں میں محدود ہونے کے باعث اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے فلسطینیوں پر حملے میں واضح کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن، گشت کیلئے پولیس روبوٹ تعینات

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک دو ہفتوں بعد کیے جانے والے جائزے میں سیکیورٹی فورسز کے حملوں میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران اسرائیل پر غزہ سے راکٹ حملہ بھی کیا گیا جس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 61 ہزار افراد وائرس کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایک پرانی ویکسین کورونا وائرس کو روک سکے گی؟

دنیا بھر میں اب تک 11 لاکھ سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جس میں سب سے زیادہ یورپ اور امریکا متاثر ہوئے ہیں۔

البتہ دنیا کے دیگر خطوں کے برعکس فلسطین اس وائرس سے انتہائی کم متاثر ہوا ہے اور اب تک غزہ کی پٹی پر صرف 12 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔