افغان امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے، طالبان کا امریکا کو انتباہ

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

طالبان نے افغان حکومت کو بھی امن معاہدے کے مطابق ان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر تنبیہ کی ہے — فائل فوٹو / اے پی
طالبان نے افغان حکومت کو بھی امن معاہدے کے مطابق ان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر تنبیہ کی ہے — فائل فوٹو / اے پی

طالبان نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق طالبان نے امریکا پر الزام کیا ہے کہ وہ عام شہریوں پر ڈرون حملے کرکے امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

طالبان نے افغان حکومت کو بھی امن معاہدے کے مطابق ان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر تنبیہ کی ہے۔

طالبان نے کہا کہ انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی دیہی پوسٹوں پر حملے روک دیے تھے جبکہ شہروں اور عسکری تنصیبات پر بھی غیر ملکی اور افغان فورسز پر حملے نہیں کی گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور افغان حکومت نے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو کشیدگی بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے عدم اعتماد کی فضا قائم ہوگی جس سے نہ صرف معاہدے کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے ان کے جنگجو بھی اسی طرح دینے پر مجبور ہوجائیں گے اور لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

طالبان نے بیان میں کہا کہ 'ہم امریکیوں کو سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ معاہدے کے مندرجات پر عمل کریں اور اپنے اتحادیوں کو بھی اس پر مکمل عمل کی ترغیب دیں۔'

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر معاہدے کے مطابق ان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی میں مسلسل تاخیر پر 'ناقابل دفاع دلائل' کا الزام عائد کیا جارہا ہے، جس کے بدلے ایک ہزار سرکاری قیدی رہا کیے جانے ہیں۔

افغانستان میں موجود امریکی فوج نے طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے معاہدے کی ملٹری شرائط کو برقرار رکھا ہوا ہے اور طالبان کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'ہمارا موقف بلکل واضح ہے کہ معاہدے کے مطابق اگر افغان سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تو ہم ان کا دفاع کریں گے۔'