قرضوں کی معافی، ری اسٹرکچرنگ کیلئے کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کا حجم تقریباً ایک کھرب 7 ارب ڈالر تک ہے—تصویر: پی آئی ڈی
پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کا حجم تقریباً ایک کھرب 7 ارب ڈالر تک ہے—تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: عالمی وبا کووِڈ-19 کی وجہ سے معاشی مشکلات میں اضافے کے باعث پاکستان نے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملک میں تیزی سے بڑھتے معاشی چیلنجز پر دفتر خارجہ میں ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، حماد اظہر اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ کووِڈ-19 کی وجہ سے پہلے سے مشکلات کا شکار پاکستان کی معیشت پر نمایاں طور پر اضافی بوجھ پڑا ہے، جس میں سب سے بڑا دھچکا بین الاقوامی طلب کم ہونے سے برآمدات کے علاوہ ترسیلات زر میں کمی کا ہے۔

مزید یہ کہ بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار، سروسز اور زرعی شعبے میں بھی کمی کی توقع ہے جس کی وجہ سے معیشت کی متوقع نمو نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے جبکہ حکومت نے بھی 11 کھرب 30 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’عالمی برادری پاکستان جیسے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے پر غور کرے‘

پاکستان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ترقی پذیر معیشتوں کے قرضوں میں کمی اور ری اسٹرکچرنگ کی جائے تا کہ وہ اپنے وسائل کا استعمال عوام کو ریلیف پہنچانے اور ان کی جان بچانے کے لیے کرسکیں۔

اس معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وسیع سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے قرضوں کے بوجھ میں آسانی کے مطالبے کو خاصی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

مذکورہ معاملہ جی-20 اجلاس میں بھی زیر غور آیا تھا جو بین الاقوامی معاشی تعاون کا سب سے اہم اور بڑا فورم ہے جس میں عالمی رہنماؤں نے کووِڈ 19 کے ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار اور عالمی معاشی تحفظ پر اتفاق کیا تھا تاہم ان ممالک کی مدد کی تجویز ابھی باضابطہ نہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کا حجم تقریباً ایک کھرب 7 ارب ڈالر تک ہے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف جون میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا

دفتر خارجہ میں ہونے والے اجلاس میں قرضوں کی دوبارہ پروفائلنگ کے پہلوؤں اور اس حوالے سے بات چیت کی گئی کہ دفتر خارجہ کس طرح اس مقصد کے لیے اتحاد تشکیل دینے میں مدد کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کی تجویز کو بہتر بنانے کے حوالے سے آرا بھی دی گئیں۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قرضوں کی معافی اور ان کی ری اسٹرکچرنگ ترقی پذیر ممالک میں زندگیاں بچانے اور پائیدار ترقی کے اہداف پانے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور جنیوا میں سفیر خلیل ہاشمی کو اس سلسلے میں بین الاقوامی فورمز پر کوششیں کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ

دوسری جانب عالمی وبا کے تناظر میں رابطوں کو جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل ولادی میرنوروف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی صورتحال کے سبب ملکی برآمدات میں کمی

دونوں رہنماؤں کے درمیان کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے مؤثر لائحہ عمل اپنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے، قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز کو آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

جس پر سیکریٹری جنرل شنگھائی تعاون تنظیم نے کہا کہ یہ تجویز ’وقت ہی اہم ضرورت’ ہے۔


یہ خبر 7 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔