تنقید کے باوجود سویڈن کا لاک ڈاؤن کرنے سے انکار

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

سویڈن میں تاحال لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا—فوٹو: سی این این
سویڈن میں تاحال لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا—فوٹو: سی این این

یورپ ملک سویڈن کا شمار کورونا وائرس سے متاثرہ 188 ممالک میں سے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے ہاں کورونا وائرس کے مریض بڑھنے کے باوجود لاک ڈاؤن نہ کرنے پر بضد ہیں۔

سویڈن میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کورونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور 10 اپریل کی دوپہر تک وہاں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار کے قریب جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 800 تک جا پہنچی تھی۔

سویڈن کا شمار یورپ کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نظام صحت بہترین ہے اور وہاں بنیادی صحت کی سہولیات ہر کسی کے لیے بھی مفت ہیں اور کورونا وائرس کے درمیان صحت کے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

سویڈن نے دیگر پڑوسی ممالک کے بر عکس اپنے ہاں لاک ڈاؤن کا نفاذ نہیں کیا تھا تاہم وہاں کی حکومت نے لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سویڈن کی حکومت نے لوگوں کو تجویز دی تھی کہ وہ گھروں سے بیٹھ کر کام کریں اور باہر جانے کے بعد ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں جب کہ 70 سال سے زائد عمر کے لوگ گھروں سے نہ نکلیں تو اچھا ہے۔

علاوہ ازیں سویڈن میں تاحال زندگی معمولات کے مطابق چل رہی ہے اور حکومت نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا۔

اس وقت سویڈن میں تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں پر نہ صرف کافی شاپ کھلی ہوئی ہیں بلکہ وہاں شراب خانوں سمیت جوا خانے بھی کھلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ کا وہ ملک جو کورونا کے پھیلاؤ کے باوجود لاک ڈاؤن نہیں ہوا

کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے باوجود وہاں لاک ڈاؤن نافذ نہ کیے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 9 اپریل کو سویڈن کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ حکومت لاک ڈاؤن نہ کرکے بہت بڑی غلطی کرتے ہوئے خطرے کو خود دعوت دے رہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن نہ کیے جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں سویڈن کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوگا۔

تاہم اب سویڈن کی حکومت نے امریکی صدر کی تنقید کے باوجود لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کا ارادہ نہیں رکھتی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق سویڈن کی وزیر خارجہ این کرسٹین لندے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لاک ڈاؤن کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ حکومت عوام کی جانب سے رضاکارانہ طور پر اختیار کی گئی سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر پر یقین رکھتی ہے۔

سویڈن کی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ سویڈن کے لوگوں کا قوت مدافعت کمزور ہوتا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ لوگوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات ان کے قوت مدافعت کو مزید مضبوط کریں گے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے معاملے پر نہ صرف سویڈن حکومت بلکہ وہاں کے ماہرین صحت بھی متفق نہیں۔

سویڈن حکومت کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ایدرس تیگنل بھی ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی شخصیات کی لاک ڈاؤن کی تنقید سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے کہ لاک ڈاؤن نہ کرنے سے سویڈن بری طرح متاثر ہوگا۔

ڈاکٹر ایدرس تیگنل کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سویڈن کی حکومت درست کر رہی ہے، لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ سویڈن کا نظام صحت بھی بہت مضبوط ہے جو اچھے طریقے سے کورونا جیسی وبا کو بھی حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ لازمی نہیں ہے کہ تعلیمی اداروں اور اسکولوں کو بھی وبا سے ڈرتے ہوئے بند کیا جائے بلکہ وہ ان کے مطابق اگر اسکول بند کیے گئے تو وہاں ملازمت کرنے والے افراد اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے بچے گھر میں بند ہوکر بیمار ہوجائیں گے۔

سویڈن کی حکومت کے مطابق عوام ان کی تمام ہدایات پر عمل کر رہے ہیں تو انہیں لاک ڈاؤن لگانے کی ضرورت نہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ہدایات کے تحت 70 سال یا اس سے زائد کی عمر کے افراد گھروں سے نہیں نکل رہے جب کہ کسی بھی جگہ 50 سے زائد افراد جمع نہیں ہو رہے اور ساتھ ہی تمام مقامات پر لوگ سماجی فاصلے کو اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے دور رہنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سویڈن پر اعتراضات

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) یورپ نے بھی سویڈن کی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو وبا پر قابو پانے کے لیے سخت انتطامات کرنا پڑیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے یورپ سے متعلق نمائندے نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن کی حکومت کو کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے سخت انتظامات کرنے سمیت اپنے نظام صحت کو بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے سویڈن میں لوگوں میں مزید سماجی فاصلوں پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو بھی سنجیدہ ہونا پڑے گا لیکن سویڈن کی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کے مؤقف پر کوئی بیان نہیں دیا۔