کیا کورونا وائرس دیگر عالمی وباؤں سے زیادہ خطرناک ہے؟

اپريل 12 2020

ای میل

اب جبکہ کورونا وائرس ہم پر تکالیف، بے آرامی اور موت کے پہاڑ توڑے جا رہا ہے تو ایسے میں گزرے وقتوں اور ماضی کی وباؤں پر غور و فکر کرنا ہرگز ایک غلط فیصلہ نہیں ہوگا۔

دیگر الفاظ میں کہا جائے تو دنیا گزشتہ صدیوں میں اس سے بھی بدترین عالمی وباؤں کا سامنا کرچکی ہے۔ ان میں سے چند نے تو تہذیبوں تک کو تباہ کردیا اور شہروں، قبیلوں اور قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

جس طرح کورونا وائرس سماجی سرحدوں سے ناآشنا ہے ٹھیک ویسے ہی قدیم وبائیں بھی جسمانی و سیاسی سرحدوں کو آسانی سے عبور کرتی چلی گئیں۔ پھر آج ہی کی طرح عالمگیریت نے ایسی وباؤں کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا۔

تیسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت میں ایک ڈراؤنا طاعون کچھ اس طرح پھیلا جیسے مکھن میں گرم چھری چلتی ہے۔ اس زمانے کے قصے کہانیوں کے مطابق ایبولا جیسا طاعون آنتوں کو پگھلا دیتا تھا اور متاثرہ شخص کی آنکھوں سے خون بہنے لگتا اور پیر گلنا سڑنا شروع ہوجاتے تھے۔ اس ہولناک موت کے رقص نے رومی سلطنت کی اس قدر کمر توڑ دی کہ یہ انتشار اور انارکی کا شکار ہوگئی۔

آگے چل کر جب اس سلطنت نے خود کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہا اور اپنا درالخلافہ قسطنطنیہ منتقل کیا تو اسے ایک بار پھر عالمی وبا نے اٹھا کر پٹخ دیا۔ مغرب کی طرف پھیلتی اس وبا کا آغاز چین سے ہوا تھا۔ بیوبونک طاعون کے بارے میں بہت سی جگہوں پر یہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ اس کے جراثیم جوں پر سوار تھے اور پھر یہ جوں مغرب کو جانے والی بیڑوں پر سوار چوہوں پر چڑھ گئی تھی۔

اسکندریہ میں ان پر قسطنطنیہ کے درآمد کردہ اناج کو لاد دیا گیا تھا۔ پھر اس مال کو پورے یورپ میں بیچا گیا جہاں یہ جراثیم طاعون کی عالمی وباؤں کا باعث بنا جس کے سبب سیکڑوں ہزاروں لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ گلی کوچوں میں لاشیں سڑنے گلنے لگیں اور اشرافیہ ہو یا کسان طبقہ دونوں ہی موت کا شکار بن رہے تھے۔

چھٹی اور ساتویں صدی میں بازنطینہ میں پھیلنے والے جسٹینین طاعون کے باعث دسیوں لاکھ افراد سنگین حالات اور تکالیف سے گزرے۔ تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ اس دور میں مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کے باعث طاقت کا توازن اس وقت شمالی یورپ کی طرف جھکا جب بالکن اور یونان میں سلاوی حملوں، اٹلی میں لومبارڈی یلغاروں اور بازنطینہ قبضوں نے اس وقت کے عالمی نظام کو کمزور کردیا تھا۔

خطہ عرب میں عمواس طاعون کی وجہ سے 25 ہزار مسلمان سپاہی مارے گئے تھے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی تکالیف کو اخلاقی پستی سے جوڑا گیا۔ مذہبی رہنماؤں کے مطابق یہ وبا اس لیے یہاں پھوٹی تھی کیونکہ لوگ شراب پیا کرتے تھے۔ اس وبائی پھوٹ سے پہلے بھی انسانی ساختہ اور قدرتی آفات کا ذمہ دار اسی طرح کی انسانی ناکامیوں کو ہی ٹھہرایا جاتا رہا۔ آج بھی ہمارے مذہبی رہنما ہمارے ساتھ پیش آنے والے تمام بُرے واقعات کو مقدس قوانین سے بھٹکنے کا ثمر بتاتے ہیں۔

اگر ہم کورونا وائرس کو انسانی تاریخ کی بدترین عالمی وبا سمجھ رہے ہیں تو ذرا سیاہ موت کو ذہن میں لائیں جس نے 14ویں صدی میں پورے یورپ میں تباہی مچائی تھی۔ 1347ء میں سسلی میں لنگر انداز 12 بحری بیڑوں سے شروع ہونے والی اس وبا نے یورپ اور شمالی افریقہ میں 7 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ زندگیاں نگل لی تھیں۔ یہ تعداد 47 کروڑ 50 لاکھ آبادی کا 30 سے 60 فیصد بنتی تھی۔ آبادی کو اپنی اصل تعداد بحال کرنے میں 200 برس لگے۔

چنانچہ آج جب ہم چند ہزار زندگیوں کے نقصان کی بات کر رہے ہیں تو یہ حقیقت میں ماضی میں انسانیت کو اپنا شکار بنانے والی وباؤں کے سبب ہونے والے جانی نقصان کے مقابلے میں ایک معمولی سا عدد دکھائی دیتا ہے۔

19ویں صدی میں (ایک بار پھر!) چین کے صوبے یننان سے طاعون پھیلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس وقت 10 لاکھ اموات بھارت میں ہوئی تھیں اور وبا سے بندرگاہی شہر مبئی، کلکتہ اور کراچی متاثر ہوئے تھے۔

ان دنوں ویکسین منظرِ عام پر آنے والی تھیں۔ گنجان آباد پسماندہ قصبوں نے مرض کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی جبکہ نکاسی آب اور بنیادی صفائی کی سہولتوں کے فقدان نے متعدد بڑی آبادیوں کے لیے خطرات بہت زیادہ بڑھا دیے تھے، اس کے علاوہ 'سماجی فاصلے' کو گھنی آبادی والے علاقوں کے لیے قابلِ عمل تصور نہیں کیا گیا۔

طبّی سائنس کی اس قدر ترقی کے باوجود بھی آج ہم وقتاً فوقتاً (مرس، ایبولا وغیرہ) عالمی وباؤں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ انفلوئنزا (وبائی زکام) دراصل وائرس کے ذریعے پھیلنے والا مرض ہے اور کورونا وائرس کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ اگرچہ مؤخر الذکر زیادہ مہلک ہے لیکن مؤخر الاول سے سال میں 20 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ دونوں نمونیا اور موت کا باعث بنتے ہیں۔

1980ء کی دہائی میں جب ایڈز کا مرض پہلی بار منظرِعام پر آیا تب کٹر مذہبی افراد نے یہ بتایا کہ یہ ایک مرض اکثر و بیشتر ہم جنس پرستوں پر وارد ہوتا ہے اور یوں اسے ہم جنس پرستوں پر الہٰی سزا ٹھہرایا گیا۔ برسا برس گزر جانے کے بعد آج اس کا علاج ڈھونڈ لیا گیا ہے اور ایڈز ایسے امراض کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن چکا ہے جو ڈاکٹر اور محققین کو مصروف رکھتی ہیں۔

دراصل کورونا وائرس پر ہمارا ردِعمل ہی اسے دیگر عالمی وباؤں سے الگ بناتا ہے۔ خود ساختہ تنہائی اور سماجی فاصلہ اپنانے سے زیادہ تر لوگ اپنی ملازمتوں، کاروبار اور ذاتی تعلقات سے منقطع ہوکر رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔ انگلینڈ میں تو پہلے ہی باغی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ عالمی وبا کے خاتمے کے بعد ہم کس طرح معاشرے اور معیشت کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں گے؟ پیداواری اور رابطہ کاری ذرائع پہلے ہی نمایاں تبدیلیوں سے گزر چکے ہیں اور ہم ابھی تک اس بات سے انجان ہیں کہ انہیں کورونا وائرس سے پہلے کے حالات میں بحال کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں؟

حسبِ معمول غربا بالخصوص تیسری دنیا میں رہنے والے غریب لوگ ہی تکالیف کا شکار ہیں۔ ہاتھ دھونے کے لیے درکار صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث انہیں وائرس لگنے کا خدشہ زیادہ ہے اور مناسب علاج معالجہ ملنے کی امیدیں بہت ہی کم ہیں۔ اس لحاظ سے کورونا وائرس نے سماج میں پڑی گہری دراڑوں کو مزید آشکار کردیا ہے۔


یہ مضمون 11 اپریل 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔